اسلام آباد، 10 مارچ — وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کو پائیدار اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی چاہیے تو صرف بینکنگ نظام پر انحصار کافی نہیں ہوگا، اور اسی لیے حکومت مقامی کیپٹل مارکیٹ، خاص طور پر کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹ، کو زیادہ فعال اور گہرا بنانے پر زور دے رہی ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق انہوں نے کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ منڈی کو بینک فنانسنگ کے ساتھ مل کر معیشت کی ضرورتیں پوری کرنی ہوں گی۔
وزیرِ خزانہ کا مؤقف واضح تھا: پاکستان کو ایسا مالیاتی ڈھانچہ درکار ہے جس میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے صرف بینک قرضے ہی واحد راستہ نہ رہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ ملک کے اندر موجود بچتیں زیادہ مؤثر انداز میں سرمایہ کاری کی طرف آئیں، نجی شعبہ متبادل ذرائع سے فنڈنگ حاصل کرے، اور معیشت کے لیے مقامی سرمایہ زیادہ بڑے پیمانے پر متحرک ہو۔
اجلاس میں ان عملی رکاوٹوں کا بھی جائزہ لیا گیا جو پاکستان میں کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹ کی ترقی میں حائل رہی ہیں۔ اعلامیے کے مطابق توجہ ان اقدامات پر رہی جن میں سیکیورٹیز کے اجرا کے مراحل کو آسان بنانا، درمیانی لاگت کم کرنا، ریگولیٹری طریقہ کار بہتر کرنا، مارکیٹ انفراسٹرکچر مضبوط بنانا اور کارپوریٹ قرضہ جاتی آلات کی ثانوی مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بڑھانا شامل ہے۔ اورنگزیب نے متعلقہ اداروں کو یہ بھی ہدایت دی کہ اصلاحات کے بارے میں کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں سے مؤثر رابطہ بڑھایا جائے تاکہ پالیسی تبدیلیاں صرف کاغذ تک محدود نہ رہیں۔
یہ نکتہ محض تکنیکی نہیں بلکہ معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں برسوں سے کاروباری شعبہ زیادہ تر بینک قرضوں پر انحصار کرتا آیا ہے، جبکہ ایک مضبوط بانڈ یا کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹ کمپنیوں کو طویل المدت اور نسبتاً متنوع فنڈنگ کے مواقع دے سکتی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک بھی پاکستان میں سرمایہ منڈی کی اصلاحات کی حمایت کرتے ہوئے یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ مضبوط کیپٹل مارکیٹس مقامی بچتوں کو زیادہ مؤثر انداز میں متحرک کرتی ہیں، نجی سرمایہ کاری کو سہارا دیتی ہیں اور مالیاتی نظام کو زیادہ مسابقتی بناتی ہیں۔
یہ پیش رفت دراصل ایک بڑے پالیسی فریم ورک کا حصہ ہے۔ جنوری میں محمد اورنگزیب نے نئی ایس ای سی پی قیادت سے ملاقات میں بھی یہی مؤقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان کو سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے لیے فنڈنگ کے ذرائع متنوع بنانا ہوں گے، کیپٹل مارکیٹس کو گہرا کرنا ہوگا، ریگولیٹری کارکردگی بہتر بنانا ہوگی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ وزارتِ خزانہ اس شعبے میں محض علامتی اعلانات نہیں بلکہ مرحلہ وار ادارہ جاتی تبدیلی چاہتی ہے۔
اس تمام عمل کے پس منظر میں پاکستان کی وسیع تر مالی حکمتِ عملی بھی موجود ہے۔ اپریل میں اورنگزیب نے کہا تھا کہ پاکستان تقریباً چار سال بعد بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں دوبارہ داخلے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ ساتھ ہی یورو بانڈ، پانڈا بانڈ اور دیگر ذرائع پر بھی غور ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت ایک طرف بیرونی سرمایہ منڈیوں تک رسائی بحال کرنا چاہتی ہے، اور دوسری طرف ملک کے اندر مقامی سرمایہ منڈی کو اتنا مضبوط بنانا چاہتی ہے کہ معیشت کا بوجھ صرف بیرونی قرض یا بینک قرض پر نہ رہے۔
حکومت کے نزدیک اس دو رخی حکمتِ عملی کے کئی فائدے ہو سکتے ہیں۔ اگر مقامی کیپٹل مارکیٹ مضبوط ہوتی ہے تو حکومت اور نجی کمپنیاں طویل المدت بنیادوں پر روپے میں سرمایہ اکٹھا کر سکیں گی، مالیاتی نظام میں ادارہ جاتی سرمایہ کاروں مثلاً انشورنس کمپنیوں، پنشن فنڈز اور ایسٹ مینیجرز کا کردار بڑھ سکتا ہے، اور وقت کے ساتھ ریٹیل سرمایہ کاروں کی شمولیت بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہی وہ سمت ہے جسے وزارتِ خزانہ اور ایس ای سی پی حالیہ مہینوں میں بار بار اجاگر کرتے رہے ہیں۔
تاہم اصل امتحان اب عمل درآمد کا ہے۔ پاکستان میں اس سے پہلے بھی سرمایہ منڈی کی اصلاحات کی بات ہوتی رہی ہے، مگر کم لیکویڈیٹی، محدود سرمایہ کار بنیاد، پیچیدہ اجرا طریقہ کار اور کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹ کی کم گہرائی جیسے مسائل نے پیش رفت سست رکھی۔ اس بار حکومت کی توجہ زیادہ عملی معلوم ہوتی ہے، لیکن کامیابی کا انحصار اسی بات پر ہوگا کہ کیا کمپنیاں واقعی زیادہ اجرا کرتی ہیں، کیا سرمایہ کار متحرک ہوتے ہیں، اور کیا ثانوی مارکیٹ میں حقیقی سرگرمی پیدا ہوتی ہے یا نہیں۔
فی الحال محمد اورنگزیب کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کو دیرپا بنیادوں پر استوار کرنا ہے تو مقامی سرمایہ کو زیادہ مؤثر طریقے سے منظم کرنا ہوگا، اور اس کے لیے کیپٹل مارکیٹ کو مرکزی کردار دینا ناگزیر بنتا جا رہا ہے۔
