کراچی: جمعرات، 23 اپریل 2026 کو انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مستحکم رہا۔ ڈالر 280 روپے کے قریب ٹریڈ کرتا رہا، جو کہ پچھلے سال کی سخت مالیاتی پالیسیوں کے بعد اب ایک نیا ‘بیس لائن’ بن چکا ہے۔ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی شدت میں کمی آئی ہے، مگر معاشی ماہرین اسے حقیقی استحکام ماننے سے انکاری ہیں۔ یہ استحکام بظاہر پرسکون لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے لیکویڈیٹی کا سنگین بحران موجود ہے۔ درآمدکنندگان کے لیے لیٹر آف کریڈٹ (LCs) کا حصول اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود کو بلند رکھنے کے فیصلے نے اس قیاس آرائی کو تو ختم کر دیا ہے جو ماضی میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیتی تھی۔ کراچی کے ایک سینئر کرنسی ڈیلر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "مارکیٹ میں ہلچل ختم ہو چکی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی کاروبار کا حجم بھی سکڑ گیا ہے۔ ہم ایک ایسی مارکیٹ دیکھ رہے ہیں جو بظاہر تو چل رہی ہے، مگر بہت محدود مارجن پر ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کوئی بھی غیر متوقع اضافہ یا بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فنڈز کی آمد میں تاخیر اس مصنوعی استحکام کو کسی بھی وقت توڑ سکتی ہے۔” حکومتی حلقے اس موجودہ استحکام کو اپنی ‘نظم و ضبط والی مالیاتی پالیسی’ کا ثمر قرار دے رہے ہیں۔ تاہم، صنعتی شعبے کی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ بلند شرح سود کے باعث مقامی کاروبار کے لیے قرضے لینا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، جس سے نہ صرف مینوفیکچرنگ کا شعبہ متاثر ہو رہا ہے بلکہ برآمدات میں اضافے کی رفتار بھی سست پڑ گئی ہے۔ تاجر برادری کا مؤقف ہے کہ معیشت کو ترقی کے لیے درکار سرمایہ فراہم کرنے کے بجائے اسے صرف ‘بھوکا’ رکھا جا رہا ہے۔ خطے کی دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں بھی روپیہ اسی روش پر گامزن ہے۔ برطانوی پاؤنڈ اور یورو کی قدر میں معمولی ردوبدل عالمی منڈی میں ڈالر کی مجموعی مضبوطی کی عکاس ہے، نہ کہ مقامی معاشی پالیسیوں میں کسی بڑی تبدیلی کی۔ عام آدمی کے لیے ڈالر کی یہ وقتی ٹھہراؤ اس لیے معنی رکھتی ہے کہ پیٹرول اور درآمدی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے ہوشربا اضافے کی رفتار کچھ کم ہوئی ہے۔ البتہ، گزشتہ دو برسوں میں روپے کی قدر میں ہونے والی بڑی گراوٹ کے اثرات اب بھی برقرار ہیں، جس نے قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دن کے اختتام پر تمام تر توجہ اسٹیٹ بینک کے ان سرکلرز پر مرکوز ہے جو سیکنڈری مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر کو ایک پائیدار سطح تک پہنچانے کے واضح روڈ میپ کے بغیر، روپے کی موجودہ پوزیشن معاشی بحالی نہیں بلکہ ایک نازک ‘سیز فائر’ کی مانند ہے۔
