راولپنڈی — سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو آنکھ میں تکلیف کے باعث اڈیالہ جیل سے راولپنڈی کے نجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی کو سخت سکیورٹی حصار میں ہسپتال لایا گیا، جہاں طبی ماہرین نے ان کا معائنہ کیا۔ ہسپتال کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی اور کسی کو بھی غیر متعلقہ شخص کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق خاتون اول کو گزشتہ کچھ عرصے سے بینائی اور آنکھ میں شدید جلن کی شکایت تھی، جس کے بعد طبی بورڈ کی سفارش پر انہیں جیل سے باہر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
بشریٰ بی بی کی قانونی ٹیم طویل عرصے سے ان کی صحت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتی رہی ہے۔ ان کے وکلاء کا موقف ہے کہ جیل میں طبی سہولیات ناکافی ہیں اور ان کی صحت مسلسل گر رہی ہے۔ ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی قانونی ٹیم کے ایک رکن نے کہا کہ "ہم نے بارہا درخواستیں دی تھیں کہ انہیں طبی امداد کی ضرورت ہے، تاخیر سے ہی سہی لیکن حکام نے اب انہیں ہسپتال منتقل کیا ہے۔”
دوسری جانب تحریک انصاف کی جانب سے بشریٰ بی بی کی جیل میں حالتِ قید کو سیاسی انتقام قرار دیا جاتا رہا ہے۔ پارٹی قیادت کا دعویٰ ہے کہ انہیں سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، تاہم حکومتی حکام اور جیل انتظامیہ ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے اسے معمول کی طبی ضرورت قرار دیتی ہے۔
ہسپتال میں ابتدائی معائنے کے بعد ڈاکٹرز نے مزید ٹیسٹ تجویز کیے ہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ انہیں کتنی دیر ہسپتال میں رکھا جائے گا یا علاج کے بعد انہیں واپس جیل منتقل کیا جائے گا۔ ان کی صحت کی صورتحال پر تحریک انصاف کی جانب سے تشویش کا اظہار جاری ہے، جو اس معاملے کو سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
