گوجرانوالہ کے علاقے میں منگل کی صبح اس وقت کھلبلی مچ گئی جب ناشتے میں چائے پینے کے بعد ایک ہی خاندان کے 16 افراد کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ متاثرین میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
تمام افراد کو شدید قے اور پیٹ میں درد کی شکایت پر فوری طور پر سول ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر ارشد محمود نے بتایا کہ مریض جب لائے گئے تو ان کی حالت کافی تشویشناک تھی، تاہم بروقت طبی امداد کے بعد اب سب کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
"مریضوں کو فوری طور پر طبی امداد دی گئی، لیکن اصل وجہ جاننے کے لیے لیبارٹری رپورٹس کا انتظار ہے،” ڈاکٹر ارشد نے صحافیوں کو بتایا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری متاثرہ گھر پہنچ گئی۔ تفتیشی حکام نے باورچی خانے سے چائے کی پتی، دودھ اور چینی کے نمونے قبضے میں لے لیے ہیں۔ پولیس اس زاویے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ معاملہ زہریلی اشیاء کے غلط استعمال کا ہے یا دودھ میں کسی قسم کی ملاوٹ کا نتیجہ ہے۔
اہلِ علاقہ میں اس واقعے کے بعد شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے، خاص طور پر مقامی سطح پر دودھ کی فراہمی کے معیار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ لیبارٹری رپورٹ آنے تک کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا، تاہم واقعے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے ہر پہلو سے چھان بین کی جا رہی ہے۔
تمام متاثرہ افراد تاحال ہسپتال میں زیرِ نگرانی ہیں اور ڈاکٹروں کے مطابق انہیں مزید 24 گھنٹے تک وارڈ میں رکھا جائے گا تاکہ ان کی صحت کو مکمل طور پر مستحکم کیا جا سکے۔
