جنوبی افریقہ کے صدر سیرل راما فوسا پر جمعہ، 8 مئی 2026 کو دباؤ اچانک بڑھ گیا، جب آئینی عدالت نے فیصلہ دیا کہ پارلیمنٹ نے فالا فالا کیش اسکینڈل سے متعلق مواخذے کے عمل کو روک کر آئین کے مطابق کام نہیں کیا۔ یہ فیصلہ راما فوسا کو فوری طور پر عہدے سے نہیں ہٹاتا، لیکن اس نے وہ سیاسی اور پارلیمانی راستہ دوبارہ کھول دیا ہے جسے کئی حلقے بند سمجھ رہے تھے۔
عدالت نے بنیادی طور پر کہا کہ قومی اسمبلی نے مواخذے کے عمل کو بہت ابتدائی مرحلے پر ہی ختم کر دیا تھا۔ فیصلے کے مطابق پارلیمنٹ کا رول 129I آئینی معیار پر پورا نہیں اترتا تھا، کیونکہ اس کے تحت ارکانِ اسمبلی مکمل تحقیقات سے پہلے ہی کارروائی روک سکتے تھے۔ عدالت نے 2022 میں ہونے والی قومی اسمبلی کی ووٹنگ بھی کالعدم قرار دی اور حکم دیا کہ سیکشن 89 پینل کی رپورٹ اب مواخذے کی کمیٹی کو بھیجی جائے۔
اس فیصلے کے فوراً بعد حزبِ اختلاف نے صدر کے خلاف سیاسی مہم تیز کر دی۔ ایکنامک فریڈم فائٹرز کے رہنما جولیئس ملیما نے کہا کہ راما فوسا کو مستعفی ہو کر مواخذے کے عمل کا سامنا کرنا چاہیے۔ اپوزیشن کے دوسرے رہنماؤں نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ پارلیمنٹ نے ماضی میں صدر کو سیاسی تحفظ دیا تھا۔
یہ معاملہ فالا فالا اسکینڈل سے جڑا ہے، جو راما فوسا کی صدارت کے دوران سب سے زیادہ متنازع مقدمات میں شمار ہوتا ہے۔ اس کیس کا مرکز وہ واقعہ ہے جس میں ان کے نجی فارم سے صوفے میں چھپائی گئی تقریباً 5 لاکھ 80 ہزار ڈالر نقد رقم چوری ہونے کا انکشاف ہوا۔ 2022 میں سابق چیف جسٹس سینڈائل نگکوبو کی سربراہی میں قائم آزاد پارلیمانی پینل نے کہا تھا کہ بظاہر ایسا مواد موجود ہے جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا صدر نے آئین یا قانون کی سنگین خلاف ورزی کی، یا سنگین بدانتظامی کے مرتکب ہوئے۔
راما فوسا مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ رقم بھینسوں کی فروخت سے حاصل ہوئی تھی اور انہوں نے کسی بھی غیر قانونی عمل کی تردید کی ہے۔ وہ اس معاملے سے متعلق دیگر قانونی اور ادارہ جاتی جانچ کے مراحل سے پہلے بھی نکل چکے ہیں۔ تاہم تازہ عدالتی فیصلہ اس لیے اہم ہے کیونکہ اس نے پارلیمنٹ کے اندر وہ باقاعدہ مواخذے کا راستہ پھر کھول دیا ہے جو سیاسی لحاظ سے سب سے زیادہ حساس سمجھا جاتا ہے۔
اس فیصلے کے سیاسی اثرات فوری ہو سکتے ہیں۔ راما فوسا اپنی آخری مدتِ صدارت میں ہیں، لیکن اگر مواخذے کی کارروائی آگے بڑھتی ہے تو اس سے ان کی سیاسی گرفت کمزور پڑ سکتی ہے، اے این سی کے اندر اختلافات بڑھ سکتے ہیں، اور جنوبی افریقہ کی پہلے سے نازک پارلیمانی سیاست مزید دباؤ میں آ سکتی ہے۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ عمل واقعی ان کے اقتدار کے خاتمے تک پہنچے گا، لیکن اتنا واضح ہے کہ فالا فالا معاملہ دوبارہ قومی سیاست کے مرکز میں آ گیا ہے۔
