سندھ حکومت: عورت مارچ کے لیے این او سی جاری، لباس اور نعروں پر پابندیاں عائد
کراچی — سندھ حکومت نے کراچی میں ہونے والے سالانہ ’عورت مارچ‘ کے لیے مشروط اجازت نامہ (NOC) جاری کر دیا ہے، جس میں شرکاء کے لباس اور پلے کارڈز پر استعمال ہونے والے نعروں کے حوالے سے سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔
صوبائی انتظامیہ نے ریلی کی منظوری اس واضح ہدایت کے ساتھ دی ہے کہ کوئی بھی ایسا نعرہ یا پوسٹر جس سے ملکی "اخلاقی اور سماجی اقدار” متاثر ہوں، ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکام نے منتظمین کو خاص طور پر ہدایت کی ہے کہ شرکاء کا لباس مقامی ثقافتی اصولوں کے دائرہ کار میں رہے۔
یہ فیصلہ اس سالانہ ایونٹ کے گرد طویل عرصے سے جاری انتظامی کھنچاؤ کا تسلسل ہے۔ گزشتہ برس بھی اسی طرح کی شرائط عائد کی گئی تھیں، جس کے نتیجے میں منتظمین اور مقامی پولیس کے درمیان کئی گھنٹوں تک مذاکرات ہوئے تھے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات "امن و امان برقرار رکھنے” کے لیے ضروری ہیں، جبکہ حقوقِ نسواں کی کارکنان اسے سیاسی اظہار رائے کو دبانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیتی ہیں۔
منگل کی رات جاری ہونے والے این او سی کے مطابق، منتظمین کو اپنے داخلی سیکیورٹی رضاکاروں کی فہرست پولیس کے حوالے کرنی ہوگی۔ ضلعی انتظامیہ نے یہ اختیار اپنے پاس رکھا ہے کہ اگر ریلی طے شدہ راستے سے ہٹی یا مانیٹرنگ آفیسرز نے کسی بینر کو اشتعال انگیز قرار دیا، تو اجازت نامہ فوری طور پر منسوخ کر دیا جائے گا۔
منتظمین کے لیے یہ شرائط ایک کٹھن امتحان بن چکی ہیں۔ انہیں اب سینکڑوں پلے کارڈز کی جانچ پڑتال کرنے اور ڈریس کوڈ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مارچ کے بنیادی مقصد یعنی صنفی مساوات اور حقوق کے پیغام کو بھی برقرار رکھنا ہے۔
ایک منتظم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "حکومت دراصل ہمارے احتجاج کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مارچ تو ہو، لیکن صرف ان شرائط پر جو موجودہ سماجی ڈھانچے کو چیلنج نہ کریں۔”
اگرچہ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ یہ ضوابط کسی بھی عوامی اجتماع کے لیے معمول کا حصہ ہیں، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ "اخلاقی اقدار” کا ذکر ایک ایسا مبہم آلہ ہے جسے خواتین کی آواز کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مارچ کی تاریخ قریب آتے ہی، ایونٹ کے اصل مطالبات کے بجائے ساری توجہ ریاستی پابندیوں اور ان کے دائرہ کار پر مرکوز ہو گئی ہے۔
مارچ اپنے طے شدہ راستے پر آگے بڑھے گا، بشرطیکہ منتظمین حکومتی نگرانی اور بصری مواد پر عائد ان پابندیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شرکاء ان محدود شرائط کے دائرے میں رہ کر اپنا احتجاج کیسے ریکارڈ کراتے ہیں۔
