پشاور، 10 مئی — خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں سے ملاقات میں زور دیا ہے کہ صوبے کے آئینی، مالی اور انتظامی مسائل کو وفاق کے سامنے مضبوط اور متحد آواز کے ساتھ اٹھایا جائے۔ اتوار کو گورنر ہاؤس پشاور میں ہونے والی اس ملاقات میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، صوبائی صدر جنید اکبر اور دیگر سیاسی شخصیات شریک ہوئیں۔
ملاقات میں خیبر پختونخوا کو درپیش کئی اہم معاملات زیرِ بحث آئے۔ ان میں سی این جی اسٹیشنز کی بندش، گندم سے متعلق مسائل، نیشنل فنانس کمیشن کے امور، ضم شدہ اضلاع کی صورتحال اور کاروباری برادری کو لاحق مشکلات شامل تھیں۔ ذرائع کے مطابق گفتگو کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ صوبے کے حقوق اور مالی مفادات کے تحفظ کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے۔
گورنر کنڈی نے اس موقع پر کہا کہ خیبر پختونخوا کے مسائل محض ایک جماعت کا معاملہ نہیں بلکہ پورے صوبے کا مقدمہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب صوبے کی قیادت ایک صفحے پر آکر بات کرے گی تو مرکز پر اس کا اثر بھی زیادہ ہوگا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ منتشر سیاسی بیانات کے بجائے ایک واضح، مربوط اور متفقہ موقف زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خیبر پختونخوا اور وفاق کے درمیان مالی وسائل، واجبات اور اختیارات کے معاملے پر کشیدگی کی فضا پہلے ہی موجود ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ماضی میں بارہا یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ وفاق خیبر پختونخوا کے ساتھ مالی معاملات میں انصاف نہیں کر رہا، خاص طور پر این ایف سی، بقایاجات اور ضم شدہ اضلاع کے لیے وسائل کی فراہمی کے معاملے پر۔
سیاسی لحاظ سے بھی یہ ملاقات اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ گورنر کنڈی اور پی ٹی آئی کے درمیان تعلقات ہمیشہ نرم نہیں رہے۔ ایسے ماحول میں دونوں جانب سے ایک ہی میز پر بیٹھ کر صوبے کے بڑے مسائل پر بات کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ کم از کم بعض معاملات پر سیاسی حد بندیوں سے اوپر اٹھنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
ملاقات میں شریک پی ٹی آئی وفد نے بھی صوبے کو درپیش مشکلات پر تفصیلی بات کی۔ بتایا گیا ہے کہ کاروباری حلقوں کے مسائل، توانائی سے متعلق رکاوٹیں اور ضم شدہ اضلاع کی ترقی و وسائل کی کمی جیسے نکات خاص طور پر نمایاں رہے۔ اس گفتگو سے یہ تاثر ابھرا کہ خیبر پختونخوا کے اندر سیاسی جماعتیں کئی معاملات پر اختلاف رکھتی ہیں، لیکن صوبے کے حقوق کے سوال پر ایک مشترکہ بیانیہ تشکیل دینے کی گنجائش موجود ہے۔
اگرچہ اس ملاقات کے بعد کسی فوری پالیسی فیصلے یا عملی اعلان کی اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم اس کی سیاسی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔ کم از کم اتنا ضرور واضح ہوا ہے کہ خیبر پختونخوا کے مسائل کو مرکز کے سامنے زیادہ قوت اور یکجہتی سے پیش کرنے کی بات اب صرف حکومت یا اپوزیشن کے محدود دائرے میں نہیں رہی، بلکہ اسے ایک وسیع تر صوبائی مؤقف کے طور پر سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فی الحال اصل سوال یہی ہے کہ آیا اس ملاقات کے بعد وفاق اور صوبے کے درمیان معاملات میں کوئی عملی پیش رفت ہوگی یا نہیں۔ لیکن اتوار کی یہ بیٹھک ایک واضح پیغام دے گئی: خیبر پختونخوا اپنے حقوق، وسائل اور انتظامی ضروریات کے معاملے میں خاموش رہنے کے موڈ میں نہیں، اور اس کا مقدمہ اب زیادہ سخت اور اجتماعی انداز میں اٹھانے کی بات کی جا رہی ہے۔
