پاکستان کے قومی خلائی تحقیقی ادارے ‘سپارکو’ نے پیشگوئی کی ہے کہ سال 2026 میں ملک بھر میں عید الاضحیٰ ممکنہ طور پر 27 جون کو منائی جائے گی۔ اگرچہ چاند کی رویت کا حتمی فیصلہ رویتِ ہلال کمیٹی ہی کرے گی، تاہم ادارے کے فلکیاتی ڈیٹا کے مطابق ذوالحج کا چاند 17 جون کی شام نظر آنے کے قوی امکانات ہیں۔
سائنسی تخمینے کے مطابق، اگر 17 جون کو چاند نظر آجاتا ہے تو یکم ذوالحج 1447 ہجری کا آغاز 18 جون سے ہوگا۔ اس حساب سے حج کا رکنِ اعظم ‘یومِ عرفہ’ 26 جون کو ہوگا، جبکہ سنتِ ابراہیمی کی پیروی میں عید الاضحیٰ کا تین روزہ تہوار 27 جون بروز ہفتہ شروع ہوگا۔
سپارکو کی یہ پیشگوئی انتہائی درست ‘لونیئر ٹریکنگ’ (lunar tracking) پر مبنی ہے، لیکن پاکستان میں مذہبی و قانونی طور پر چاند کی رویت کا اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی ہی کرتی ہے۔ کمیٹی کا فیصلہ ملک کے مختلف حصوں سے موصول ہونے والی شہادتوں پر منحصر ہوتا ہے—اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں اکثر سائنسی تقویم اور روایتی مشاہدے میں فرق سامنے آتا ہے۔
یہ پیشگی تاریخیں مویشی منڈیوں کے کاروبار سے جڑے افراد کے لیے خاصی اہمیت رکھتی ہیں۔ کراچی کے ناردرن بائی پاس سے لے کر لاہور کی شاہ پور کانجراں منڈی تک، بیوپاری انھی تاریخوں کو مدنظر رکھ کر جانوروں کی ترسیل اور قیمتوں کا تعین کرتے ہیں۔ جون کے وسط میں عید ہونے کا مطلب ہے کہ قربانی کے جانوروں کی خریداری کا عمل ماہ کے دوسرے ہفتے سے ہی عروج پر پہنچ جائے گا۔
عام شہریوں کے لیے بھی یہ تاریخیں محض تعطیلات کا شیڈول نہیں بلکہ انتظامی چیلنج کی نشاندہی کرتی ہیں۔ جون کے آخر میں پاکستان کے بیشتر شہر شدید گرمی کی لپیٹ میں ہوتے ہیں۔ تپتے موسم میں قربانی کے بعد آلائشوں کی فوری منتقلی بلدیاتی اداروں کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا تاکہ تعفن اور وبائی امراض سے بچا جا سکے۔
فی الوقت سپارکو کے اعداد و شمار کو قومی سطح پر منصوبہ بندی کے لیے ایک بنیادی گائیڈ سمجھا جا رہا ہے، تاہم حتمی مہر ذوالقعد کی 29 تاریخ کو چاند کی رویت کے بعد ہی لگے گی۔
