کراچی کے انڈر ورلڈ میں ‘پنکی’ کے نام سے مشہور انمول کو منگل کے روز جب سٹی کورٹ میں پیش کیا گیا، تو اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں نہیں تھیں۔ سیکیورٹی اہلکاروں کے حصار میں آزادانہ چلتی ہوئی اس ہائی پروفائل ملزمہ نے عدالتی راہداریوں میں موجود وکلاء اور سائلین کو حیرت میں ڈال دیا، جس کے بعد پولیس کے حفاظتی پروٹوکول پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوکین سپلائی کے سنگین الزامات کا سامنا کرنے والی ملزمہ کو بخشی خانے سے عدالت تک لاتے ہوئے کسی قسم کی پابندی کا استعمال نہیں کیا گیا۔ عام طور پر سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو سخت سیکیورٹی اور ہتھکڑیوں میں پیش کیا جاتا ہے، لیکن انمول عرف پنکی کی اس ‘آزادانہ’ پیشی نے کراچی پولیس کے ضابطہ کار (SOPs) کی دھجیاں اڑا دیں۔
عدالت میں موجود ایک سینئر وکیل نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "یہ صرف ایک ملزمہ کا معاملہ نہیں، بلکہ قانون کے نفاذ کا سوال ہے۔ جب ایک بڑے منشیات فروش نیٹ ورک سے جڑی ملزمہ کو اتنی رعایت دی جائے، تو اس سے تفتیش کی سنجیدگی پر اثر پڑتا ہے اور عوام میں غلط پیغام جاتا ہے۔”
انمول کو کراچی کے پوش علاقوں میں منشیات کی فراہمی کے خلاف ہونے والے حالیہ کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ شہر کے بااثر اور امیر طبقے تک کوکین پہنچانے والے نیٹ ورک کی کلیدی کڑی ہے۔ اس کی گرفتاری کو منشیات کے خاتمے کی جانب ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا، تاہم عدالت میں اس کے ساتھ ہونے والے برتاؤ نے اس تاثر کو زائل کر دیا ہے۔
پولیس حکام نے اب تک اس سنگین غفلت پر کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا۔ محکمہ پولیس کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ٹرانسپورٹ ٹیم کی ‘انتظامی غلطی’ ہو سکتی ہے، لیکن قانونی ماہرین اس وضاحت کو ناکافی قرار دے رہے ہیں۔
یہ واقعہ کراچی کے عدالتی اور پولیس نظام میں موجود اس تضاد کو واضح کرتا ہے جہاں ملزمان کے ساتھ برتاؤ ان کے اثر و رسوخ یا جرائم کی نوعیت کے بجائے دیگر وجوہات پر طے ہوتا نظر آتا ہے۔ جس کیس کو پولیس اپنی بڑی فتح قرار دے رہی تھی، اس کی مرکزی ملزمہ کا عدالتی راہداریوں میں یہ ‘آزادانہ گشت’ سیکیورٹی کے دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔
اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا اعلیٰ حکام اس غفلت کا نوٹس لیں گے یا یہ معاملہ بھی روایتی خاموشی کی نذر ہو جائے گا۔
