ہیوسٹن بیسڈ اسٹارٹ اپ ‘فرِو انرجی’ (Fervo Energy) نے ابتدائی پبلک آفرنگ (IPO) کے ذریعے اسٹاک مارکیٹ میں داخلے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ کمپنی ان خدشات کو غلط ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے کہ زمین کی تپش سے حاصل ہونے والی توانائی صرف قدرتی گرم چشموں تک محدود ہے۔ اب یہ کمپنی اپنے اس ماڈل کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کی تیاری میں ہے۔
کمپنی کا یہ اقدام نیواڈا میں ان کے ‘پروجیکٹ ریڈ’ کی کامیابی کے بعد سامنے آیا ہے۔ فرِو نے تیل اور گیس کی صنعت میں استعمال ہونے والی افقی ڈرلنگ اور ہائیڈرولک فریکچرنگ کی جدید تکنیکوں کو زمین کی گہرائیوں میں گرم پانی کے ذخائر تلاش کرنے کے لیے استعمال کیا۔ یہ وہ طریقہ کار ہے جس نے پہلے ناقابل رسائی سمجھے جانے والے جیوتھرمل وسائل کو بجلی پیدا کرنے کے قابل بنا دیا ہے۔
توانائی کے ماہرین طویل عرصے سے جیوتھرمل کو قابل تجدید توانائی کا ‘ہولی گرائل’ قرار دیتے آئے ہیں۔ شمسی اور ہوائی توانائی کے برعکس، جیوتھرمل کو سورج ڈوبنے یا ہوا تھمنے کے بعد بیٹریوں کے بڑے ذخائر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ 24 گھنٹے بجلی فراہم کرنے کا ایک مستقل ذریعہ ہے۔ تاہم، اس شعبے میں سب سے بڑی رکاوٹ تلاش اور ڈرلنگ پر آنے والی بھاری لاگت رہی ہے۔
فرِو کا پبلک مارکیٹ میں جانے کا فیصلہ توانائی کی منتقلی کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ سرمایہ کار اب ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے سے کتراتے ہیں جن میں بہت زیادہ ابتدائی اخراجات درکار ہوں، لیکن صاف ستھری اور مستقل بجلی کی طلب اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ گوگل پہلے ہی اپنے ڈیٹا سینٹرز کو بجلی فراہم کرنے کے لیے کمپنی کا بڑا صارف بن چکا ہے، جس سے اس اسٹارٹ اپ کو ایک واضح مالیاتی ساکھ ملی ہے۔
یہ آئی پی او جیوتھرمل سیکٹر کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔ امریکی محکمہ توانائی نے اس شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، مگر نجی سرمایہ کار اب بھی محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ فرِو کی پبلک ویلیوایشن یہ طے کرے گی کہ آیا جیوتھرمل توانائی واقعی مستقبل کا ایک مرکزی ستون بن سکے گی یا یہ صرف ایک محدود تجربہ بن کر رہ جائے گی۔
ایک وینچر کیپیٹل سے چلنے والے اسٹارٹ اپ سے پبلک کمپنی بننے کا سفر صرف مالیاتی سنگِ میل نہیں ہے۔ یہ اس بات پر ایک بڑا جوا ہے کہ گرڈ کو درکار وشوسنییتا (reliability) زمین کی گہرائیوں میں تلاش کے خطرات سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اگر فرِو اس میں کامیاب ہوتا ہے، تو یہ صرف ایک توانائی فراہم کنندہ نہیں، بلکہ انڈسٹری کا نیا معیار بن جائے گا۔
