سائنس دان مائیکرو اسکوپک آتش فشانی شیشے کی مدد سے جان رہے ہیں کہ ابتدائی انسان ٹوبا تباہی سے کیسے بچ گئے
تقریباً 74 ہزار سال قبل ہونے والے ایک عظیم آتش فشانی دھماکے نے انسانیت کو ممکنہ طور پر معدومی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ واقعہ زمین کی تاریخ کی سب سے خوفناک قدرتی آفات میں شمار ہوتا ہے۔
یہ واقعہ، جسے ٹوبا سپر ایروپشن کہا جاتا ہے، موجودہ انڈونیشیا میں پیش آیا تھا اور اسے گزشتہ 25 لاکھ سال کی سب سے بڑی آتش فشانی تباہیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق اس دھماکے سے تقریباً 2,800 مکعب کلومیٹر راکھ فضا میں پھیل گئی، جو 1980 میں ہونے والے ماؤنٹ سینٹ ہیلنز کے دھماکے سے 10 ہزار گنا زیادہ طاقتور تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تباہ کن دھماکے کے بعد دنیا بھر میں آسمان تاریک ہوگئے، کئی سال تک عالمی درجہ حرارت میں کمی رہی، تیزابی بارشوں نے پانی کے ذخائر کو آلودہ کردیا اور مختلف علاقوں کے ماحولیاتی نظام شدید متاثر ہوئے۔
ماہر آثارِ قدیمہ Jayde N. Hirniak، جو Arizona State University سے وابستہ ہیں، کے مطابق سائنس دان آج بھی یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ابتدائی انسان اس انتہائی تباہ کن واقعے سے کیسے بچ نکلے۔
کیا انسان معدومی کے قریب پہنچ گئے تھے؟
ایک معروف نظریہ، جسے ٹوبا کیٹاسٹرافی ہائپوتھیسس کہا جاتا ہے، کے مطابق اس آتش فشانی دھماکے نے تقریباً چھ سال تک جاری رہنے والی “آتش فشانی سردی” پیدا کی، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں انسانی آبادی میں شدید کمی واقع ہوئی۔
کچھ جینیاتی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اس دور میں انسانوں کو ایک شدید “جینیاتی بوتل نیک” کا سامنا کرنا پڑا، یعنی دنیا بھر میں انسانوں کی تعداد کم ہو کر ممکنہ طور پر 10 ہزار سے بھی نیچے آگئی تھی۔ ایسے واقعات جینیاتی تنوع کو کم کر دیتے ہیں اور نسلوں کے مستقبل پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
تاہم، ماہرین آثارِ قدیمہ اور ماحولیاتی سائنس دان اب بھی اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا صرف ٹوبا کا دھماکہ ہی اس آبادی میں کمی کی اصل وجہ تھا یا نہیں۔
ننھے آتش فشانی ذرات میں چھپے بڑے راز
اس تباہی کے اثرات کو سمجھنے کے لیے سائنس دان مائیکروسکوپک آتش فشانی شیشے کے ذرات، جنہیں کرپٹوٹیفرا کہا جاتا ہے، کا مطالعہ کرتے ہیں۔ یہ ننھے ذرات ہزاروں میل دور تک سفر کرکے زمین اور آثارِ قدیمہ کی تہوں میں دفن ہوگئے تھے۔
محققین انتہائی احتیاط سے مٹی کے نمونوں سے ان ننھے شیشے کے ذرات کو الگ کرتے ہیں اور پھر ان کی کیمیائی ساخت کا تجزیہ کرکے معلوم کرتے ہیں کہ یہ کس آتش فشانی دھماکے سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ آتش فشانی مواد ایک “قدرتی ٹائم اسٹیمپ” کی طرح کام کرتا ہے، جس سے سائنس دان جان سکتے ہیں کہ انسان کسی علاقے میں دھماکے سے پہلے، دوران اور بعد میں موجود تھے یا نہیں۔
شواہد سے پتا چلتا ہے کہ انسانوں نے خود کو ڈھال لیا
آثارِ قدیمہ سے ملنے والے شواہد کے مطابق ابتدائی انسان شاید پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ مضبوط اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے والے تھے۔
جنوبی افریقہ کے مقامات، خصوصاً Pinnacle Point، پر ملنے والے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان اس تباہی کے دوران بھی وہاں آباد رہے۔ محققین نے دھماکے کے بعد انسانی سرگرمیوں میں اضافے اور نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے آثار بھی دریافت کیے ہیں۔
اسی طرح ایتھوپیا کے آثارِ قدیمہ سے معلوم ہوا کہ قدیم انسانوں نے موسمی پانی کے ذخائر میں مچھلیاں پکڑ کر اور تیر و کمان جیسی ٹیکنالوجی اپنا کر سخت موسمی حالات کا مقابلہ کیا۔
سائنس دانوں نے بھارت اور چین میں بھی ایسے شواہد دریافت کیے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف خطوں میں انسانی آبادیوں نے شدید ماحولیاتی تباہی کے باوجود خود کو زندہ رکھا اور حالات سے مطابقت اختیار کی۔
مستقبل کے لیے سبق
ماہرین کے مطابق ٹوبا جیسی قدیم تباہیوں کا مطالعہ مستقبل میں ممکنہ آتش فشانی خطرات سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔
آج United States Geological Survey اور Global Volcanism Program جیسے ادارے دنیا بھر میں آتش فشاں پہاڑوں کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں تاکہ بروقت وارننگ جاری کی جا سکے اور خطرات کو کم کیا جا سکے۔
محققین کا ماننا ہے کہ ٹوبا کی کہانی انسانیت کی سب سے بڑی طاقت کو ظاہر کرتی ہے — یعنی انتہائی تباہ کن حالات میں بھی خود کو ڈھال لینے کی صلاحیت۔
