میڈرڈ کے مشہور فٹ بال کلب ریال میڈرڈ نے باضابطہ طور پر صدارتی انتخابات کا عمل شروع کر دیا ہے، جس سے دنیا کے امیر ترین فٹ بال کلب میں اقتدار کی تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ کلب کے انتخابی بورڈ نے رواں ہفتے اجلاس کے بعد ٹائم لائن کو حتمی شکل دے دی ہے، جس سے ایک ایسے انتخابی عمل کی راہ ہموار ہوئی ہے جس میں گزشتہ ایک دہائی سے فلورنٹینو پیریز کو کوئی سنجیدہ چیلنج درپیش نہیں رہا۔
ستر سالہ فلورنٹینو پیریز 2009 سے کلب کے صدر چلے آ رہے ہیں، جبکہ وہ اس سے قبل 2000 سے 2006 تک بھی اس عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان کی قیادت میں کلب ایک مالیاتی دیو بن کر ابھرا ہے، جس نے حال ہی میں سینٹیاگو برنابیو اسٹیڈیم کی خطیر رقم سے تزئین و آرائش مکمل کی ہے۔ اگرچہ ان کا دور کامیابیوں اور چیمپئنز لیگ میں تسلط سے عبارت رہا ہے، تاہم یورپی سپر لیگ کے قیام کی کوششوں اور کلب کے اختیارات کو ایک مرکز پر جمع کرنے کے فیصلے پر انہیں تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔
صدارتی امیدوار بننے کے لیے شرائط انتہائی سخت ہیں۔ کلب کے آئین کے مطابق امیدوار کا کم از کم 20 سال تک کلب کا رکن (سوسیو) ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ، امیدوار کو کلب کے سالانہ بجٹ کا 15 فیصد بطور ذاتی بینک گارنٹی جمع کرانا پڑتا ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق یہ رقم 100 ملین یورو سے زائد بنتی ہے، جو کسی بھی عام رکن کے لیے اس دوڑ میں شامل ہونا ناممکن بنا دیتی ہے۔
یہ شرائط کلب کے اراکین کے درمیان بحث کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قوانین موجودہ صدر کو تحفظ دینے کے لیے بنائے گئے ہیں، جبکہ حامیوں کا موقف ہے کہ یہ شرائط اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ صرف وہی شخص کلب کی باگ ڈور سنبھالے جو اس کی مالی استحکام کی ذمہ داری اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
یہ انتخابات ریال میڈرڈ کے لیے ایک اہم موڑ پر ہو رہے ہیں۔ کلیان ایمباپے جیسے کھلاڑیوں کی شمولیت کے بعد ٹیم میدان میں تو مضبوط نظر آتی ہے، لیکن اسٹیڈیم پر اٹھنے والے قرضوں کا بوجھ اور سپر لیگ سے متعلق قانونی لڑائیاں نئے صدر کے لیے بڑے چیلنجز ہوں گی۔
نامزدگیوں کا عمل شروع ہوتے ہی اب نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا کوئی ایسا بااثر شخصیت سامنے آئے گی جو پیریز کی مالی اور سیاسی طاقت کو ٹکر دے سکے۔ فی الحال، کلب میں انتخابی مشینری متحرک ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ریال میڈرڈ کی قیادت میں کوئی نیا باب کھلتا ہے یا موجودہ نظام ہی برقرار رہتا ہے۔
