بنگلہ دیش نے منگل کے روز تاریخ رقم کرتے ہوئے پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میچ میں 78 رنز سے شکست دے کر دو میچوں کی سیریز میں 2-0 سے کلین سوئپ مکمل کر لیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلہ دیش نے پاکستان کی سرزمین پر انہیں ٹیسٹ سیریز میں شکست دی ہے۔
185 رنز کے تعاقب میں پاکستانی بیٹنگ لائن اپ ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ میزبان ٹیم آخری دن لنچ کے کچھ ہی دیر بعد 172 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ بنگلہ دیشی پیسر حسن محمود نے تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 43 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ناہید رانا کی تیز رفتار بولنگ نے پاکستانی بلے بازوں کو سنبھلنے کا کوئی موقع نہ دیا۔
یہ فتح خطے میں کرکٹ کے بدلتے ہوئے منظرنامے کی عکاس ہے۔ بنگلہ دیش نے اس دورے سے قبل کبھی پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں نہیں ہرایا تھا، لیکن اس بار انہوں نے ہر اہم مرحلے پر کھیل کو اپنے قابو میں رکھا۔
میچ کے بعد بنگلہ دیشی کپتان نجم الحسین شانتو نے کہا کہ "ہمیں اپنی صلاحیتوں پر یقین تھا، لڑکوں نے ایک دوسرے کے لیے کھیلا اور یہی ہماری کامیابی کی وجہ بنی۔”
پاکستان کی شکست کا عمل انتہائی تیز تھا۔ کپتان شان مسعود کی 51 رنز کی مزاحمتی اننگز اور سلمان علی آغا کے 30 رنز کے باوجود، پاکستانی ٹیل اینڈرز کوئی خاص مزاحمت نہ کر سکے۔ راولپنڈی کی پچ، جسے اکثر فلیٹ ہونے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، پاکستانی بلے بازوں کے لیے ایک امتحان ثابت ہوئی جہاں گیند کی موومنٹ اور بڑھتے ہوئے دباؤ نے انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔
یہ شکست پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک بڑے بحران کی علامت ہے۔ مختلف فارمیٹس میں مسلسل مایوس کن کارکردگی کے بعد، اب ٹیم کے انتخاب، فٹنس اور حکمت عملی پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس سیریز کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے لیے ‘ہوم گراؤنڈ’ کا فائدہ اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔
دوسری جانب بنگلہ دیشی ٹیم اپنے ساتھ ایک نیا اعتماد لے کر وطن لوٹے گی۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان کی غلطیوں کا فائدہ اٹھایا بلکہ ایک متوازن بولنگ اٹیک اور نظم و ضبط کے ساتھ بیٹنگ کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ کسی بھی میدان میں حریف کو زیر کر سکتے ہیں۔
راولپنڈی اسٹیڈیم کے میدان میں جب بنگلہ دیشی کھلاڑی جشن منا رہے تھے، تو خاموش تماشائیوں کے چہروں پر موجود مایوسی پاکستانی ٹیم کی موجودہ صورتحال کی عکاس تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے اب آگے کا راستہ کٹھن ہے، اور اس شرمناک شکست کے بعد ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
