امریکن لائسی ٹف ڈی این کے اسکول پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ادارے نے گرمیوں کی تعطیلات کے باوجود طلبہ کو کلاسز میں شرکت پر مجبور کیا، جس کے بعد والدین اور طلبہ کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
والدین اور طلبہ کے مطابق شدید گرمی اور تعطیلات کے اعلان کے باوجود اسکول میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھی گئیں اور طلبہ کو کیمپس آنے کی ہدایات دی گئیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ موجودہ موسمی صورتحال میں طلبہ کی صحت اور حفاظت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی شکایات کے مطابق بعض طلبہ کو حاضری اور تعلیمی نقصان کے خدشات کا حوالہ دے کر کلاسز میں آنے پر زور دیا گیا۔ والدین نے سوال اٹھایا کہ شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے باوجود جسمانی حاضری کیوں ضروری قرار دی جا رہی ہے۔
معاملہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آنے کے بعد متعدد صارفین نے نجی تعلیمی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ سرکاری تعطیلاتی پالیسی پر سختی سے عمل کروایا جائے۔
طلبہ نے بھی شدید گرمی، ٹریفک اور سفری مشکلات کی شکایت کی جبکہ بعض والدین کا کہنا تھا کہ کم عمر بچے گرمی کے باعث پانی کی کمی اور طبی مسائل کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق اگرچہ ادارے تعلیمی سرگرمیاں مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم شدید موسمی حالات میں طلبہ کی صحت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
تاحال اسکول انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات پر کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم اس معاملے نے گرمیوں کی تعطیلات، طلبہ کی حفاظت اور نجی تعلیمی اداروں کی ذمہ داریوں سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے
