اسلام آباد، 20 مئی 2026 — وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بدھ کے روز کہا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنی دیرینہ، آزمودہ اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بات چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے وائس چیئرمین کائی دافینگ کی قیادت میں آنے والے اعلیٰ سطحی چینی وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ وفد پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے اسلام آباد آیا ہے۔
وزیراعظم نے ملاقات میں کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ملکوں کی “آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ” وقت کی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے اور آنے والے برسوں میں اسے نئی بلندیوں تک لے جانا پاکستان کی ترجیح رہے گی۔
ملاقات میں قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی موجود تھیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق گفتگو میں دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی روابط، علاقائی صورتحال اور چین پاکستان اقتصادی راہداری، یعنی سی پیک، کے اگلے مرحلے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے خطے، خاص طور پر جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے چین کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی ہم آہنگی، کثیرالجہتی تعاون اور ترقیاتی شراکت داری کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔ جواب میں کائی دافینگ نے پرتپاک خیرمقدم پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ چینی قیادت پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
اس ملاقات کا ایک اہم پہلو سی پیک کا اگلا مرحلہ بھی تھا۔ پاکستانی حکام اب اس منصوبے کو صرف سڑکوں، توانائی اور انفراسٹرکچر تک محدود رکھنے کے بجائے صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی، معدنیات اور روزگار کے مواقع سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد بیجنگ کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ پاکستان نہ صرف جاری منصوبوں کو آگے بڑھائے گا بلکہ سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو بھی بہتر بنائے گا۔
اسی روز سینیٹ نے پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ایک قرارداد بھی منظور کی، جس میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو پائیدار دوستی، قابلِ اعتماد شراکت داری اور مسلسل بڑھتے ہوئے تعاون کی علامت قرار دیا گیا۔ چینی وفد نے سینیٹ کی کارروائی بھی دیکھی، جو بظاہر یہ دکھانے کی کوشش تھی کہ یہ تعلق صرف حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ پارلیمانی سطح پر بھی اسے مضبوط حمایت حاصل ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین عالمی اور علاقائی معاملات پر ایک دوسرے کے قریب نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور فائدے کی بنیاد پر قائم ہیں، اور 75 برس کا سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ شراکت داری وقتی مفادات سے کہیں آگے ہے۔
قومی اسمبلی نے بھی چین کی حکومت اور عوام کو 75 سالہ سفارتی تعلقات پر مبارکباد دیتے ہوئے قرارداد منظور کی۔ قرارداد میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی پارلیمان دوطرفہ تعاون کو سیاسی، معاشی، اسٹریٹجک اور عوامی سطح پر مزید گہرا کرنے کی حمایت جاری رکھے گی۔
کائی دافینگ کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان معاشی بحالی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور سی پیک منصوبوں کی رفتار بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ساتھ ہی چینی شہریوں اور منصوبوں کی سکیورٹی بھی دونوں ملکوں کے ایجنڈے کا حساس نکتہ بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ برس وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ بیجنگ کے دوران پاکستان نے چین کے ساتھ اربوں ڈالر کے سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط کیے تھے، جبکہ حکومت نے چینی کارکنوں کے تحفظ کو بہتر بنانے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔
بدھ کی ملاقات کا پیغام صاف تھا: اسلام آباد چین کو اپنی خارجہ پالیسی اور معاشی حکمت عملی کا مرکزی ستون سمجھتا ہے، جبکہ بیجنگ بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو سیاسی، پارلیمانی اور ترقیاتی سطح پر آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔ 75 سالہ سفارتی تعلقات کی تقریبات کے دوران دونوں ملک بظاہر یہی دکھانا چاہتے ہیں کہ یہ دوستی صرف روایتی نعروں تک محدود نہیں، بلکہ اسے نئے معاشی اور علاقائی تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔
