مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی صحت کے شعبے میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق اسپتالوں میں مریضوں کے لیے تیار کی جانے والی آفٹر وزٹ سمریز یعنی علاج کے بعد دی جانے والی ہدایات، جب اے آئی کے ذریعے تیار کی گئیں تو انہیں ڈاکٹرز کی لکھی ہوئی سمریز کے مقابلے میں زیادہ واضح اور سمجھنے میں آسان قرار دیا گیا۔
آفٹر وزٹ سمری مریض کے لیے بہت اہم دستاویز ہوتی ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ مریض کو اسپتال میں کس مسئلے کے تحت دیکھا گیا، کون سی ادویات استعمال کرنی ہیں، علاج کے بعد کن علامات پر نظر رکھنی ہے، اور دوبارہ ڈاکٹر سے کب رجوع کرنا ہے۔ لیکن اکثر مریضوں کے لیے یہ سمریز مشکل طبی اصطلاحات اور پیچیدہ زبان کی وجہ سے سمجھنا آسان نہیں ہوتیں۔
تحقیق کے مطابق اے آئی طبی معلومات کو نسبتاً سادہ، منظم اور مریض دوست انداز میں پیش کر سکتی ہے۔ جب اے آئی سے تیار کردہ سمریز کا موازنہ ڈاکٹرز کی لکھی ہوئی سمریز سے کیا گیا تو ماہرین نے اے آئی والی سمریز کو زیادہ واضح اور مفید قرار دیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اے آئی ڈاکٹرز کی جگہ لے رہی ہے، بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اے آئی ڈاکٹرز کی مدد کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصروف اسپتالوں میں ڈاکٹرز پر کاغذی کارروائی اور دستاویزات تیار کرنے کا دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے میں اے آئی ابتدائی مسودہ تیار کر سکتی ہے، جسے ڈاکٹر بعد میں چیک کرکے حتمی شکل دے سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہو سکتی ہے بلکہ مریضوں کو بہتر اور آسان معلومات بھی فراہم کی جا سکتی ہیں۔
تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی سے تیار کردہ طبی معلومات کو بغیر انسانی نگرانی کے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اے آئی کبھی کبھار اہم تفصیلات چھوڑ سکتی ہے، طبی سیاق و سباق کو غلط سمجھ سکتی ہے، یا غلط معلومات بھی شامل کر سکتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہر اے آئی سمری کو مریض کو دینے سے پہلے ڈاکٹر لازمی طور پر چیک کرے۔
یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مستقبل میں اے آئی اسپتالوں کے نظام، مریضوں کی رہنمائی اور طبی دستاویزات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کا اصل فائدہ انسانی فیصلے کی جگہ لینا نہیں بلکہ ڈاکٹرز اور مریضوں کے درمیان رابطے کو زیادہ واضح، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔
