اسرائیل نے غزہ جانے والے فلوٹیلا سے حراست میں لیے گئے غیر ملکی کارکنان کو ملک بدر کر دیا ہے، جبکہ زیرِ حراست افراد کے ساتھ مبینہ سلوک پر عالمی سطح پر تنقید بڑھ رہی ہے۔
یہ کارکنان ایک امدادی مشن کا حصہ تھے، جس کا مقصد غزہ کی بحری ناکہ بندی کو چیلنج کرنا اور وہاں انسانی امداد پہنچانا تھا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق کارکنان کو ساحل پر لانے کے بعد قانونی کارروائی مکمل کر کے ملک بدری کے عمل سے گزارا گیا۔
واقعے کے بعد اس وقت ردِعمل میں اضافہ ہوا جب ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں زیرِ حراست کارکنان کو ہتھکڑیوں میں زمین پر بیٹھے ہوئے دکھایا گیا۔ کئی ممالک نے اپنے شہریوں کے ساتھ سلوک پر تشویش ظاہر کی، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطین کے حامی حلقوں نے گرفتاریوں کی مذمت کی۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فلوٹیلا نے سکیورٹی پابندیوں کی خلاف ورزی کی اور غزہ کے لیے امداد منظور شدہ راستوں سے بھیجی جانی چاہیے۔ دوسری جانب کارکنان کا مؤقف ہے کہ ان کا مشن پُرامن تھا اور اس کا مقصد غزہ میں جاری انسانی بحران کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانا تھا۔
یہ ملک بدریاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر عالمی نگرانی بڑھ رہی ہے اور محصور علاقے تک انسانی امداد کی رسائی بڑھانے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔
