پاکستان نے 75 روپے مالیت کے نئے یادگاری سکے کے اجرا کا اعلان کر دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق یہ سکہ یومِ آزادی کی مناسبت سے اور “معرکۂ حق” میں مسلح افواج کی خدمات و بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے جاری کیا گیا۔ مرکزی بینک نے بتایا کہ یہ سکہ 15 اگست 2025 سے ایس بی پی بینکنگ سروسز کارپوریشن کے فیلڈ دفاتر کے ذریعے عوام کو دستیاب کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ سرکاری نوٹس کے مطابق یہ سکہ نکل براس سے تیار کیا گیا ہے، جس میں 79 فیصد تانبا، 20 فیصد زنک اور 1 فیصد نکل شامل ہے۔ سکے کا قطر 30 ملی میٹر جبکہ وزن 13.5 گرام رکھا گیا ہے۔ یہ تفصیلات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ یادگاری سکے عموماً عام صارفین کے ساتھ ساتھ سکوں کے شوقین افراد اور کلیکٹرز کی بھی خاص توجہ حاصل کرتے ہیں۔ تکنیکی خصوصیات براہِ راست اسٹیٹ بینک کے اعلامیے میں درج ہیں۔
سکے کے ڈیزائن میں واضح طور پر قومی علامتوں کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق سکے کے ایک رُخ پر ریاستی شناخت سے جڑی علامتیں موجود ہیں، جبکہ دوسرے رُخ پر “پاکستان ہمیشہ زندہ باد” درج ہے۔ اسی جانب فوجی نوعیت کی علامتی تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں، جن میں لڑاکا طیارے، بحری جہاز اور راکٹ لانچر نظام دکھایا گیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سکہ صرف ایک نئی مالیت کا اجرا نہیں بلکہ ایک علامتی قومی پیغام بھی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے اپنے بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت نے یہ سکہ مسلح افواج کی جرات کو سراہنے اور یومِ آزادی کو “پورے وقار” کے ساتھ منانے کے لیے جاری کیا۔ پاکستانی میڈیا کی متعدد رپورٹس نے بھی اسی نکتے کو نمایاں کیا اور اس اجرا کو ایک باقاعدہ قومی و علامتی اقدام قرار دیا۔
عوام کے لیے اہم بات یہ تھی کہ یہ سکہ ایس بی پی بی ایس سی کے تمام فیلڈ دفاتر کے ایکسچینج کاؤنٹرز سے دستیاب کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے محض نمائشی یا محدود نوعیت کے اجرا کے طور پر پیش نہیں کیا گیا، بلکہ اسے باقاعدہ تقسیم کے نظام کے تحت جاری کیا گیا۔ البتہ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی دستیابی طلب، اسٹاک اور کلیکٹرز کی دلچسپی پر بھی منحصر رہ سکتی ہے۔ آخری نکتہ عمومی مشاہدے پر مبنی ہے۔
سادہ لفظوں میں، 75 روپے کا یہ نیا یادگاری سکہ ایک ساتھ کئی پیغام سمیٹے ہوئے ہے: یومِ آزادی، قومی شناخت، اور مسلح افواج کو خراجِ تحسین۔ حکومت کے لیے یہ ایک علامتی اقدام ہے، جبکہ عوام اور کلیکٹرز کے لیے ایک نئی اور منفرد یادگاری اجرا۔
