ڈھاکا: بنگلہ دیش میں خسرے کی خطرناک وبا نے ہزاروں بچوں کو متاثر کر دیا ہے، جبکہ مارچ کے وسط سے اب تک سیکڑوں مصدقہ اور مشتبہ اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ صحت کے ماہرین اسے ملک میں حالیہ برسوں کی سنگین ترین خسرہ وباؤں میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔
اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر پانچ سال سے کم عمر بچے ہوئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بنگلہ دیش میں 15 مارچ سے 14 اپریل کے دوران خسرے کے 19,161 مشتبہ کیسز، 2,973 لیبارٹری سے تصدیق شدہ کیسز اور 166 مشتبہ خسرہ سے متعلق اموات رپورٹ ہوئیں۔ رپورٹ شدہ کیسز میں 79 فیصد بچے پانچ سال سے کم عمر تھے، جبکہ کئی اموات دو سال سے کم عمر غیر ویکسین شدہ بچوں میں ہوئیں۔
صورتحال بعد میں مزید خراب ہوئی۔ مقامی صحت حکام کے مطابق مئی کے وسط تک خسرے اور خسرے جیسی علامات سے ہونے والی مصدقہ اور مشتبہ اموات کی مجموعی تعداد 451 تک پہنچ گئی، جب ایک ہی دن میں مزید 12 بچوں کی موت رپورٹ ہوئی۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے اعداد و شمار کے مطابق تصدیق شدہ کیسز 7,416 جبکہ مشتبہ کیسز 55,611 تک پہنچ گئے۔
خسرہ ویکسین سے روکی جانے والی بیماری ہے، اسی لیے اس وبا نے ڈاکٹروں اور صحت عامہ کے ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ وائرس ہوا کے ذریعے پھیلتا ہے اور بخار، کھانسی، ناک بہنے، آنکھوں کی سرخی اور جسم پر دانوں کا سبب بنتا ہے۔ کم عمر، کمزور یا غیر ویکسین شدہ بچوں میں یہ بیماری نمونیا، اسہال، دماغی سوزش اور موت تک کا باعث بن سکتی ہے۔
وبا بنگلہ دیش کے بڑے حصے میں پھیل چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اپریل کے وسط تک ملک کے 64 میں سے 58 اضلاع میں خسرے کی منتقلی رپورٹ ہو چکی تھی۔ ڈھاکا سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، جہاں گنجان آبادیوں اور کچی بستیوں میں کیسز کے بڑے کلسٹرز سامنے آئے۔
صحت حکام کے مطابق بحران کی بنیادی وجہ بچوں میں قوتِ مدافعت کی کمی ہے، خاص طور پر وہ بچے جنہیں معمول کی ویکسین نہیں لگ سکی یا جن کی ویکسینیشن مکمل نہیں ہوئی۔ ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق یہ وبا ویکسین کی ناکامی نہیں بلکہ ویکسینیشن کوریج میں جمع ہونے والے خلا کا نتیجہ ہے، جس نے ہزاروں بچوں کو خطرے میں ڈال دیا۔
بنگلہ دیش نے وبا روکنے کے لیے ہنگامی خسرہ-روبیلا ویکسینیشن مہم شروع کی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس مہم میں 6 سے 59 ماہ کے بچوں کو ویکسین لگانے، نگرانی کا نظام مضبوط کرنے، لیبارٹری ٹیسٹنگ بڑھانے اور اسپتالوں کو تیار رکھنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
یہ مہم کاکس بازار کے حساس علاقوں، خاص طور پر روہنگیا پناہ گزین کیمپوں تک بھی پہنچائی گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اوکھیا اور ٹیکناف کے کیمپوں میں 6 ماہ سے پانچ سال سے کم عمر کے 166,000 سے زائد بچوں کو خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی۔
ماہرین کہتے ہیں کہ یہ وبا ایک سخت وارننگ ہے۔ خسرہ واپس آنے کے لیے زیادہ جگہ نہیں مانگتا۔ ویکسینیشن میں معمولی کمی، سپلائی میں رکاوٹ، کچی آبادیوں تک رسائی کی کمزوری یا دور دراز علاقوں میں تاخیر ہزاروں بچوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
خاندانوں کے لیے پیغام واضح ہے: بچوں کو ویکسین لگوائیں، بخار اور دانوں کو نظر انداز نہ کریں، اور علامات ظاہر ہوتے ہی ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ حکومت کے لیے چیلنج اس سے بڑا ہے — معمول کی ویکسینیشن کو مضبوط بنانا، رہ جانے والے بچوں تک پہنچنا، اور وائرس سے پہلے ہر بچے کو تحفظ دینا۔
بنگلہ دیش کی خسرہ وبا صرف صحت کا بحران نہیں۔ یہ یاد دہانی ہے کہ جن بیماریوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا تھا، وہ حفاظتی نظام کمزور پڑتے ہی دوبارہ جان لیوا شکل اختیار کر سکتی ہیں۔
