موغادیشو، صومالیہ — اقوامِ متحدہ کے تعاون سے جاری جائزوں کے مطابق صومالیہ میں 60 لاکھ سے زائد افراد شدید بھوک کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں خشک سالی، تنازعات، بے گھری اور انسانی امداد میں کمی نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ تازہ آئی پی سی (IPC) فوڈ سکیورٹی تجزیے کے مطابق 2026 کے آغاز تک تقریباً 65 لاکھ افراد بحران درجے کی بھوک یا اس سے بدتر صورتحال کا شکار ہوں گے، جن میں سے 20 لاکھ سے زائد ہنگامی حالت میں ہوں گے، جو قحط سے صرف ایک درجہ کم ہے۔
مسلسل کمزور بارشوں نے فصلوں کو نقصان پہنچایا، پانی کے ذخائر ختم کر دیے اور مویشی ہلاک کر دیے، جس کے باعث صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔ کاشتکار اور چرواہا کمیونٹیز سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں، جبکہ اندرونی طور پر بے گھر افراد خوراک کی بڑھتی قیمتوں اور روزگار کے خاتمے کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ بگاڑ خشک سالی، بدامنی اور انسانی امداد میں کمی کا نتیجہ ہے، جو جنوری 2026 میں سالانہ بنیادوں پر 27 فیصد کم ہو گئی۔
بچے اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے اداروں اور صومالی حکام کے مطابق 18 لاکھ سے زائد پانچ سال سے کم عمر بچے اس سال شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں تقریباً پانچ لاکھ بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہو سکتی ہے، جس سے ایک بڑے صحت عامہ کے بحران کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
یہ اثرات کسمایو اور دیگر خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں واضح نظر آ رہے ہیں، جہاں مویشیوں کی ہلاکت اور نقل مکانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جنوبی صومالیہ سے آنے والی رپورٹس کے مطابق بارشوں کی ناکامی کے بعد بڑے پیمانے پر مویشی ہلاک ہو گئے، جس سے خاندان اپنی خوراک اور آمدن کے اہم ذرائع سے محروم ہو گئے ہیں۔
امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ امدادی سرگرمیاں شدید مالی قلت کا شکار ہیں۔ عالمی خوراک پروگرام (WFP) نے فروری میں خبردار کیا تھا کہ فوری فنڈنگ نہ ملنے کی صورت میں صومالیہ میں اس کی ہنگامی کارروائیاں معطل ہو سکتی ہیں۔ اس وقت تقریباً 44 لاکھ افراد شدید بھوک کا شکار تھے، جبکہ 2022 جیسے قحط کے خطرات دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے حکام نے بحران کی رفتار پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ صومالیہ میں اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹر کے مطابق بڑھتی ہوئی خشک سالی، پانی کی قیمتوں میں اضافہ، محدود خوراک کی دستیابی اور مویشیوں کی ہلاکت جیسے عوامل امداد میں کمی کے ساتھ مل کر صورتحال کو مزید خراب کر رہے ہیں۔ صومالی ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے بھی خبردار کیا ہے کہ لاکھوں افراد پہلے ہی بحران کا شکار ہیں جبکہ بچوں میں غذائی قلت خطرناک سطح تک پہنچ رہی ہے۔
حتیٰ کہ اگر آنے والے مہینوں میں بارشوں میں بہتری آ بھی جائے، تب بھی صورتحال غیر یقینی رہے گی۔ آئی پی سی کے اندازوں کے مطابق اپریل سے جون کے درمیان بھی 55 لاکھ افراد شدید بھوک کا سامنا کر سکتے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مزید بگاڑ کو روکنے کے لیے فوری امداد ناگزیر ہے۔
