اسلام آباد: پاکستان میں مقامی طور پر تیار اور اسمبل کیے جانے والے موبائل فونز کی پیداوار اپریل 2026 میں 35 فیصد کم ہو کر 1.81 ملین یونٹس رہ گئی، جو مارچ میں 2.79 ملین یونٹس تھی۔ تازہ رپورٹنگ کے مطابق اسی عرصے میں مقامی اسمبلنگ کا مجموعی طلب میں حصہ بھی 89 فیصد سے کم ہو کر 83 فیصد تک آ گیا۔
اعداد و شمار سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ یہ کمی کسی صنعتی بحران سے زیادہ مارکیٹ ڈیمانڈ کی سست روی کا نتیجہ ہے۔ مارچ میں پیداوار نسبتاً مضبوط رہی تھی اور مقامی اسمبلنگ ملکی طلب کا بڑا حصہ پورا کر رہی تھی، مگر اپریل میں رفتار اچانک کم پڑ گئی۔ یہ نتیجہ ماہ بہ ماہ پیداوار اور طلب کے حصے میں آنے والی تبدیلی کی بنیاد پر اخذ کیا جا سکتا ہے۔
اس کے باوجود بڑی تصویر اب بھی مقامی صنعت کے حق میں جاتی ہے۔ پہلے کی رپورٹنگ کے مطابق 2026 کے ابتدائی دو ماہ میں پاکستان میں 4.57 ملین موبائل فونز مقامی طور پر تیار یا اسمبل کیے گئے، جبکہ اسی مدت میں کمرشل درآمدات صرف 0.87 ملین یونٹس رہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ملکی فون مارکیٹ کا بڑا انحصار اب مقامی اسمبلنگ پر ہے۔
اسی تناظر میں اپریل کی کمی کو سمجھنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ ملک میں اسمبلنگ صلاحیت ختم نہیں ہوئی، بلکہ مسئلہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ صارفین کی خریداری میں اتار چڑھاؤ براہِ راست فیکٹری آؤٹ پٹ پر اثر ڈال رہا ہے۔ جب مانگ کچھ کمزور پڑتی ہے تو پیداوار فوراً نیچے آ جاتی ہے، خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں صارفین قیمتوں کے معاملے میں پہلے ہی بہت محتاط ہوں۔
اس شعبے کے لیے ایک اور محتاط اشارہ بھی پہلے سے موجود تھا۔ جنوری 2026 کی رپورٹنگ کے مطابق پاکستان میں 2025 کے دوران مقامی موبائل فون پیداوار 30.21 ملین یونٹس رہی، جو 2024 کے 31.38 ملین یونٹس سے کم تھی۔ اس کمی کو کمزور صارف طلب اور فون تبدیل کرنے کے طویل ہوتے چکر سے جوڑا گیا تھا۔ اس حساب سے اپریل 2026 کی کمی کوئی بالکل الگ تھلگ واقعہ نہیں لگتی، بلکہ ایک بڑے رجحان کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔
مختصر یہ کہ خبر منفی ضرور ہے، مگر اسے مقامی موبائل فون اسمبلنگ ماڈل کی ناکامی نہیں کہا جا سکتا۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ پاکستان کی مقامی موبائل صنعت اب بھی غالب سپلائر ہے، مگر طلب میں سست روی اس کی ماہانہ پیداوار کو تیزی سے متاثر کر رہی ہے۔
