نئی دہلی: بھارت کے جنوبی حصے میں شدید گرمی کے دوران ہیٹ اسٹروک سے کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ کئی شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جا چکا ہے۔ حکام نے عوام کو شدید گرمی سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حکام کے مطابق یہ اموات ریاست تلنگانہ میں رپورٹ ہوئیں، جہاں حکومت نے ہر متاثرہ خاندان کے لیے 4 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ ہلاکتیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب بھارت کے کئی حصے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور شہریوں کو دوپہر کے اوقات میں دھوپ سے بچنے، زیادہ پانی پینے اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
شدید گرمی سب سے زیادہ خطرناک ان لوگوں کے لیے ثابت ہو رہی ہے جو کھلے آسمان تلے کام کرتے ہیں، جن میں مزدور، ریڑھی بان، بزرگ، بچے اور وہ افراد شامل ہیں جنہیں ٹھنڈک، بجلی یا صاف پانی تک آسان رسائی حاصل نہیں۔ بعض شہروں کے اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک اور ڈی ہائیڈریشن کے مریضوں میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔
بھارت کے کئی شہروں میں درجہ حرارت حالیہ دنوں میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہا، جبکہ وسطی اور مشرقی علاقوں میں بھی شدید گرمی برقرار ہے۔ اڑیسہ میں موسمیاتی حکام نے خبردار کیا ہے کہ 28 مئی تک گرمی سے فوری ریلیف کا امکان کم ہے۔
ہیٹ اسٹروک گرمی سے پیدا ہونے والی سب سے خطرناک حالتوں میں سے ایک ہے۔ اس میں جسم اپنا درجہ حرارت کم کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، جس سے جسمانی درجہ حرارت تیزی سے بڑھتا ہے۔ بروقت علاج نہ ملنے پر دماغ، دل، گردوں اور پٹھوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اور بعض صورتوں میں موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
بھارت میں مون سون سے پہلے شدید گرمی معمول کی بات ہے، مگر سائنس دانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہیٹ ویوز زیادہ طویل، زیادہ بار بار اور زیادہ شدید ہو رہی ہیں۔ اسی لیے گرمی اب صرف موسمی تکلیف نہیں رہی بلکہ صحتِ عامہ کا بڑا بحران بنتی جا رہی ہے، خاص طور پر غریب اور گنجان آباد علاقوں میں۔
ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دن کے گرم ترین اوقات میں باہر نکلنے سے گریز کریں، ڈھیلے اور ہلکے کپڑے پہنیں، پانی اور نمکیات کا استعمال بڑھائیں، اور چکر، بے ہوشی، قے، تیز دھڑکن یا ذہنی الجھن جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی مدد حاصل کریں۔
حکام موسم کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، مگر اصل چیلنج واضح ہے: گرمی کے اگلے حملے سے پہلے کمزور طبقوں کو محفوظ بنانا ہوگا۔
