لاہور، 24 مئی: پنجاب حکومت کی جانب سے زرعی انکم ٹیکس کی شرح میں اضافے کا معاملہ لاہور ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے، جہاں درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹیکس کی نئی شرحیں صوبائی اسمبلی کی لازمی منظوری کے بغیر نافذ کی گئیں، اس لیے ان کی قانونی حیثیت مشکوک ہے۔
درخواست اپوزیشن رکن پنجاب اسمبلی اعجاز شفیع اور جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق کے ذریعے دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پنجاب نے زرعی انکم ٹیکس کی شرحیں انتظامی نوٹیفکیشنز کے ذریعے تبدیل کیں اور اس عمل میں پنجاب اسمبلی کے آئینی اور قانونی کردار کو نظرانداز کیا گیا۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ بڑھی ہوئی شرحوں کے تحت ریکوری روکی جائے، متعلقہ نوٹیفکیشنز واپس لیے جائیں اور جو رقم مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر وصول کی گئی ہے، اسے واپس کرنے کا حکم دیا جائے۔
درخواست کا مرکزی نکتہ پنجاب ایگریکلچرل انکم ٹیکس ایکٹ 1997 کی دفعہ 11(2) ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق اس قانون، جس میں بعد ازاں ترمیم بھی کی گئی، کے تحت زرعی ٹیکس کی شرحوں میں کسی بھی تبدیلی کو سالانہ بجٹ پیش کرتے وقت صوبائی اسمبلی کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکومت نے یہ قانونی شرط پوری نہیں کی۔
یہ تنازع اچانک سامنے نہیں آیا۔ اپریل میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے بھی زرعی ٹیکس سے متعلق حکومتی نوٹیفکیشنز کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان پر عمل درآمد، اسیسمنٹ اور وصولی روکنے کی ہدایت کی تھی۔ اسپیکر کا مؤقف تھا کہ جب تک ایسے نوٹیفکیشنز اسمبلی کے سامنے مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت نہ رکھے جائیں، انہیں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹس کے مطابق معاملہ ان نوٹیفکیشنز سے جڑا ہے جو 5 مارچ 2025 کو جاری کیے گئے تھے، جن کے ذریعے زرعی انکم ٹیکس کی شرحیں تبدیل کی گئیں۔ بعد میں 10 ستمبر 2025 کے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ان شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ یہ عمل نہ صرف اسمبلی کے اختیار کو بائی پاس کرنے کے مترادف ہے بلکہ کسانوں اور زرعی شعبے پر غیر یقینی مالی بوجھ ڈالنے کا سبب بھی بنا۔
عدالتی درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹیکس عائد کرنا یا اس کی شرح میں اضافہ محض انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ بنیادی طور پر قانون سازی کا معاملہ ہے۔ اسی بنا پر درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ کے معروف مصطفیٰ امپیکس کیس سمیت آئینی اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ ٹیکس ریٹ مقرر کرنے کا اختیار ایگزیکٹو کو غیر محدود انداز میں نہیں دیا جا سکتا۔
اس معاملے میں ایک سیاسی پہلو بھی موجود ہے۔ پہلے پنجاب اسمبلی میں ان نوٹیفکیشنز کو غیر قانونی قرار دیا گیا، تاہم اگلے ہی روز ایوان نے تاخیر کو نظرانداز کرتے ہوئے زرعی انکم ٹیکس میں اضافے سے متعلق نوٹیفکیشنز کو بحال کر دیا۔ اب لاہور ہائی کورٹ کے سامنے ایک اہم سوال یہ بھی آ سکتا ہے کہ آیا اسمبلی کی بعد کی کارروائی پہلے سے جاری کیے گئے متنازع نوٹیفکیشنز کو قانونی تحفظ دے سکتی ہے یا نہیں۔
زرعی انکم ٹیکس پاکستان میں ہمیشہ ایک حساس معاملہ رہا ہے۔ صوبوں کو زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن اس کے نفاذ، شرحوں اور وصولی کے طریقہ کار پر اکثر سیاسی اور قانونی بحث ہوتی رہی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے حال ہی میں ایک الگ معاملے میں یہ اصول بھی واضح کیا تھا کہ زرعی آمدن پر ٹیکس کا اختیار صوبوں کے پاس ہے، وفاق کے پاس نہیں، بشرطیکہ ٹیکس دہندہ صوبائی زرعی انکم ٹیکس کی ادائیگی ثابت کر دے۔
اب لاہور ہائی کورٹ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ پنجاب حکومت کے نوٹیفکیشنز قانون کے مطابق جاری ہوئے یا نہیں، اسمبلی کی منظوری کا مرحلہ درست طور پر پورا کیا گیا یا نہیں، اور اگر بڑھی ہوئی شرحوں کے تحت وصولیاں ہو چکی ہیں تو ان کا قانونی مستقبل کیا ہوگا۔ کسانوں کے لیے یہ معاملہ براہِ راست مالی اثرات رکھتا ہے، جبکہ حکومت کے لیے یہ صوبائی ٹیکس پالیسی اور اسمبلی کے اختیار کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔
