اسلام آباد، 24 مئی: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی تازہ نظرثانی میں مٹی کے تیل، لائٹ ڈیزل اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر ملک بھر میں کر دیا گیا ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 1 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمت 313 روپے 44 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل مٹی کا تیل 311 روپے 73 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا تھا۔
اسی طرح لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 1 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 275 روپے 54 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے، جو پہلے 273 روپے 92 پیسے فی لیٹر تھی۔
حکومت نے جیٹ فیول کی قیمت بھی بڑھا دی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق جیٹ فیول 2 روپے 10 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 332 روپے 32 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ پہلے یہ قیمت 330 روپے 22 پیسے فی لیٹر تھی۔
حکام کے مطابق نئی قیمتیں فوری طور پر نافذ کر دی گئی ہیں۔ قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے اور توانائی کی لاگت بدستور دباؤ میں ہے۔
اگرچہ اضافہ بظاہر محدود ہے، لیکن اس کا اثر کم آمدنی والے طبقے اور دیہی علاقوں میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ مٹی کا تیل اب بھی کئی علاقوں میں گھریلو استعمال، کھانا پکانے اور روشنی کے لیے استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں گیس کی فراہمی دستیاب نہیں یا غیر مستحکم ہے۔ لائٹ ڈیزل چھوٹی مشینری، ٹیوب ویلز اور بعض زرعی سرگرمیوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے معمولی اضافہ بھی کسانوں اور چھوٹے صارفین کے اخراجات بڑھا سکتا ہے۔
تازہ نظرثانی کے بعد ڈیلرز کو ہدایت ہے کہ صارفین سے نئی مقررہ قیمتوں کے مطابق وصولی کریں۔ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی نرخوں، شرحِ تبادلہ، ٹیکسوں اور اندرونی لاگت کو مدنظر رکھ کر کرتی ہے، تاہم عام صارف کے لیے اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہر نیا اضافہ پہلے سے دبے ہوئے گھریلو بجٹ پر مزید بوجھ ڈال دیتا ہے۔
