لندن/سنگاپور: امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی امید پر پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ آبنائے ہرمز بتدریج دوبارہ کھل سکتی ہے اور عالمی توانائی رسد پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
برینٹ خام تیل تقریباً 6 فیصد کمی کے بعد 97.50 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گیا، جو تقریباً دو ہفتوں کی کم ترین سطح ہے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی گر کر تقریباً 91 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ دونوں بینچ مارکس 7 مئی کے بعد اپنی کمزور ترین سطح کے قریب ٹریڈ کرتے رہے۔
قیمتوں میں کمی اس وقت سامنے آئی جب رپورٹس میں کہا گیا کہ واشنگٹن اور تہران ممکنہ سمجھوتے کے قریب پہنچ رہے ہیں، جس کے تحت جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر وسیع تر مذاکرات شروع کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی منڈی کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ یہاں کسی بھی رکاوٹ سے تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوتی ہے، مال برداری کے خطرات بڑھتے ہیں اور خام تیل کی قیمتوں میں جنگی پریمیم شامل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ راستہ جزوی طور پر بھی محفوظ انداز میں کھلتا ہے تو مارکیٹ کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیر کو تاجروں نے قیمتوں سے کچھ جغرافیائی سیاسی خطرہ کم کرنا شروع کیا۔
تاہم تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ قیمتوں میں کمی کا مطلب بحران کا خاتمہ نہیں۔ کئی اہم اختلافات اب بھی موجود ہیں، جن میں شپنگ رسائی، پابندیوں میں نرمی، ایرانی تیل کی فروخت اور جوہری وعدوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ توانائی کی مکمل روانی بحال ہونے میں وقت بھی لگ سکتا ہے، خاص طور پر اگر علاقائی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہو۔
تیل کی کمی کا اثر عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی دکھائی دیا۔ اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری آئی، جبکہ توانائی سے جڑی مہنگائی کے خدشات کچھ کم ہوئے۔ اگر تیل کی قیمتوں میں کمی برقرار رہی تو اس کا اثر ایندھن، ٹرانسپورٹ اور کاروباری لاگت پر بھی پڑ سکتا ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران تیل کی قیمتیں سفارتی اشاروں پر تیزی سے بدلتی رہی ہیں۔ مذاکرات رکنے کی خبر آتی تو قیمتیں بڑھ جاتیں، اور پیش رفت کی امید پیدا ہوتی تو بازار نیچے آ جاتا۔
فی الحال مارکیٹ یقین نہیں بلکہ امید پر چل رہی ہے۔ امریکا ایران امن معاہدہ تیل کی منڈیوں کو بڑا ریلیف دے سکتا ہے، مگر مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ قیمتوں کو دوبارہ اوپر بھی دھکیل سکتی ہے.
