MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
Uncategorized

ٹیکسٹائل شعبے کا 113 فیصد مؤثر ٹیکس بوجھ برآمدات کے لیے خطرہ قرار

Last updated: مئی 26, 2026 5:34 شام
Mabruka Khan
Share
ٹیکسٹائل شعبے کا 113 فیصد مؤثر ٹیکس بوجھ برآمدات کے لیے خطرہ قرار
ٹیکسٹائل شعبے کا 113 فیصد مؤثر ٹیکس بوجھ برآمدات کے لیے خطرہ قرار
SHARE

اسلام آباد: پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ سے قبل حکومت کو خبردار کیا ہے کہ برآمد کنندگان پر مؤثر ٹیکس بوجھ بعض صورتوں میں 113 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس سے برآمدات، نقد رقوم کے بہاؤ اور عالمی منڈی میں پاکستان کی مسابقت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکس نظام منافع کے بجائے کاروباری حجم کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان اُن کمپنیوں کو ہو رہا ہے جو پہلے ہی کم منافع پر عالمی خریداروں کے لیے کام کرتی ہیں۔

صنعتی نمائندوں کے مطابق اصل مسئلہ برآمدی آمدن پر 2 فیصد پیشگی ٹیکس ہے۔ اگر کوئی کمپنی صرف 3 فیصد منافع پر کام کر رہی ہو تو 2 فیصد پیشگی ٹیکس اس کے سالانہ منافع کا تقریباً دو تہائی حصہ کھا جاتا ہے۔ اس کے بعد کمپنی کو مزید ٹیکس، محصولات، سماجی تحفظ کی ادائیگیاں اور دیگر لازمی واجبات بھی ادا کرنا پڑتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ٹیکسٹائل شعبہ اسے صرف ٹیکس نہیں بلکہ برآمدات پر عملی دباؤ قرار دے رہا ہے۔

صنعتی تنظیموں کے مطابق برآمد کنندگان کو کمپنی انکم ٹیکس، سپر ٹیکس، ورکرز ویلفیئر فنڈ، ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ، صوبائی سماجی تحفظ کے واجبات اور برآمدی آمدن پر پیشگی ٹیکس جیسے کئی بوجھ ایک ساتھ برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ پہلے صنعت نے مؤثر ٹیکس بوجھ تقریباً 68.27 فیصد بتایا تھا، مگر پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی تازہ پیشکش میں کہا گیا ہے کہ بعض صورتوں میں یہ بوجھ 113 فیصد تک جا پہنچتا ہے۔

صنعت کا مؤقف ہے کہ پاکستان کے برآمد کنندگان کو خطے کے مقابل ملکوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ دباؤ کا سامنا ہے۔ ٹیکسٹائل کونسل کے مطابق ویت نام میں مؤثر ٹیکس بوجھ تقریباً 20 فیصد، بنگلہ دیش میں 28 فیصد اور بھارت میں 35 فیصد ہے۔ عالمی خریداروں کے لیے یہ فرق بہت اہم ہوتا ہے، کیونکہ چند فیصد اضافی لاگت بھی آرڈر کو پاکستان سے کسی دوسرے ملک منتقل کر سکتی ہے۔

ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کا پیغام واضح ہے: اگر حکومت برآمدات بڑھانا چاہتی ہے تو برآمد کنندگان کا سرمایہ ٹیکسوں میں پھنسانا بند کرنا ہوگا۔

صنعت نے حکومت سے توانائی کے نرخ بھی خطے کے مقابلے میں مسابقتی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بجلی اور گیس کی مہنگی لاگت خاص طور پر اسپننگ، ویونگ، رنگائی، تکمیل اور ملبوسات سازی کے یونٹس کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ جب پیداواری لاگت پہلے ہی زیادہ ہو تو پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مہنگی پڑتی ہیں۔

ایک اور بڑا مسئلہ ریفنڈز میں تاخیر ہے۔ برآمد کنندگان کے مطابق سیلز ٹیکس اور دیگر واجبات کی واپسی میں تاخیر سے اربوں روپے کاروباری گردش سے باہر رہتے ہیں۔ نتیجتاً کمپنیوں کو روزمرہ کام چلانے کے لیے مہنگے قرض لینے پڑتے ہیں۔ کم منافع، مہنگی توانائی اور رکے ہوئے ریفنڈز مل کر فیکٹریوں کے لیے آرڈر پورے کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔

ٹیکسٹائل شعبے نے حکومت سے سپر ٹیکس ختم یا کم کرنے، کم از کم ٹرن اوور ٹیکس میں کمی، زیر التوا ریفنڈز کی فوری ادائیگی، برآمدی مراعات کی بحالی اور بجٹ سے پہلے صنعت سے مشاورت کا مطالبہ کیا ہے۔ صنعت کار چاہتے ہیں کہ حکومت عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ بات چیت میں بھی برآمدی شعبے کی مشکلات کو سامنے رکھے، کیونکہ کئی مالیاتی فیصلے پاکستان کے قرض پروگرام اور آمدنی کے اہداف سے جڑے ہوئے ہیں۔

یہ معاملہ صرف چند صنعت کاروں کا نہیں۔ ٹیکسٹائل پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے، جو کپاس، دھاگے، کپڑے، ملبوسات، تولیے، ڈینم، نٹ ویئر اور گھریلو ٹیکسٹائل سمیت لاکھوں افراد کے روزگار سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی شعبہ ملک کے زرمبادلہ میں بھی بڑا حصہ ڈالتا ہے۔

صنعتی نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ بجٹ میں ٹیکس ڈھانچہ درست نہ کیا گیا تو پاکستان مزید برآمدی آرڈر بنگلہ دیش، ویت نام اور بھارت کو کھو سکتا ہے۔ اُن کے مطابق عالمی خریدار پہلے ہی قیمت کے معاملے میں بہت حساس ہو چکے ہیں، اور معمولی لاگت کا فرق بھی آرڈر کے فیصلے کو بدل دیتا ہے۔

حکومت کے لیے معاملہ آسان نہیں۔ ایک طرف اسے بجٹ خسارہ کم کرنے اور آمدنی بڑھانے کی ضرورت ہے، دوسری طرف اگر برآمدی شعبے کو حد سے زیادہ نچوڑا گیا تو وہی صنعت کمزور ہو سکتی ہے جو ملک کے لیے ڈالر کماتی ہے۔

آئندہ مالی سال کا بجٹ یہ واضح کرے گا کہ حکومت ٹیکسٹائل شعبے کے انتباہ کو معمول کی صنعتی شکایت سمجھتی ہے یا اسے برآمدی معیشت کے لیے سنجیدہ خطرہ مان کر عملی اصلاحات کرتی ہے۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article ممکنہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے منصوبے پر امریکا، ایران میں بات چیت ممکنہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے منصوبے پر امریکا، ایران میں بات چیت
Next Article سعودی شہزادہ محمد بن بندر انتقال کر گئے سعودی شہزادہ محمد بن بندر انتقال کر گئے
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
ملک بھر میں خشک سالی کا اعلان: پانی کے استعمال پر سخت پابندیاں نافذ
ملک بھر میں خشک سالی کا اعلان: پانی کے استعمال پر سخت پابندیاں نافذ
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
اگست 18, 2026
ایل نینو کی واپسی: عالمی موسم میں بڑی تبدیلیوں کا خطرہ
ایل نینو کی واپسی: عالمی موسم میں بڑی تبدیلیوں کا خطرہ
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
اگست 18, 2026
روزبینک آئل فیلڈ: عوامی مشاورت کا اختتام، حکومت پر موسمیاتی دباؤ میں اضافہ
روزبینک آئل فیلڈ: عوامی مشاورت کا اختتام، حکومت پر موسمیاتی دباؤ میں اضافہ
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
اگست 18, 2026
جہاں سمندری لہروں سے مقابلہ: نوجوان ملاحوں کا امتحان
جہاں سمندری لہروں سے مقابلہ: نوجوان ملاحوں کا امتحان
تازہ ترین کھیل
اگست 18, 2026
موسمیاتی تباہ کاریاں اور معیشت: ایک نیا اور مہنگا بحران
موسمیاتی تباہ کاریاں اور معیشت: ایک نیا اور مہنگا بحران
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
اگست 18, 2026
سعودی عرب: پانی کے ضیاع پر 2 لاکھ ریال تک جرمانہ عائد
سعودی عرب: پانی کے ضیاع پر 2 لاکھ ریال تک جرمانہ عائد
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
اگست 18, 2026

You Might Also Like

Uncategorizedتعلیم

ٹرمپ کے حکم پر ہارورڈ میں غیر ملکی طلبہ کی داخلہ پابندی

By Naureen Farooq
Uncategorizedانٹرٹینمنٹ

عاصم اظہر نے انسٹاگرام سے تمام پوسٹس ڈیلیٹ کردیں، مداحوں میں تشویش کی لہر

By Ayesha Aqil
سڑک پر پیش آنے والا واقعہ توجہ کا مرکز بن گیا
Uncategorized

ویڈیو سامنے آنے کے بعد بینیڈکٹ کمبر بیچ کے سڑک پر پیش آنے والے واقعے نے توجہ حاصل کر لی

By Tasneem Juzar
Uncategorizedتعلیم

اسلام آباد، لاہور میں اسکولز کے دوبارہ کھلنے پر غیر یقینی صورتحال برقرار

By Naureen Farooq
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?