پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے صدر اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر سمیت پارٹی کے کئی رہنماؤں کو گلگت بلتستان میں 7 جون کو ہونے والے انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران حراست میں لے کر بعد ازاں علاقے سے نکال دیا گیا۔
پی ٹی آئی کے مطابق جنید اکبر غذر ضلع سے واپسی کے دوران اراکین قومی اسمبلی سلیم الرحمن، امجد علی خان، سید محبوب شاہ، رکن صوبائی اسمبلی نعیم اور ڈاکٹر نواز کے ہمراہ سفر کر رہے تھے جب انہیں ایک چیک پوسٹ پر روک لیا گیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ رہنماؤں کو حراست میں لینے کے بعد گلگت منتقل کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے اس کارروائی کو “سیاسی انتقام” اور “قبل از انتخابات دھاندلی” قرار دیا۔
دوسری جانب گلگت بلتستان پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جنید اکبر اور پی ٹی آئی کے چھ دیگر رہنماؤں کو ہنزل کے علاقے سے حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں انہیں گلگت بلتستان سے بے دخل کر دیا گیا۔ گلگت بلتستان کے وزیر داخلہ ساجد علی بیگ کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں نے بغیر این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) حاصل کیے عوامی اجتماعات سے خطاب کرکے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔
جنید اکبر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں اس پابندی کو مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایک پاکستانی شہری کو گلگت بلتستان کے اندر سفر کرنے کے لیے این او سی کی ضرورت کیوں ہونی چاہیے۔ پی ٹی آئی نے ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں پارٹی کے مطابق رہنما ایک گاڑی میں موجود دکھائی دے رہے ہیں جبکہ پولیس اہلکار ان کے اردگرد کھڑے ہیں۔
اس واقعے نے گلگت بلتستان میں پہلے سے گرم انتخابی ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا ہے، جہاں مختلف سیاسی جماعتیں پولنگ سے قبل ووٹروں کو متحرک کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سابق قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
7 جون کے انتخابات قریب آنے کے ساتھ یہ تنازع پی ٹی آئی کے اس مؤقف کو مزید تقویت دے سکتا ہے کہ اسے انتخابی میدان میں یکساں مواقع فراہم نہیں کیے جا رہے۔ تاہم حکام کا اصرار ہے کہ انتخابی قوانین اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر کارروائی کی جائے گی۔
