ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ آئسومیٹرک (Isometric) اور ایروبک (Aerobic) ورزشیں بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) کو کم کرنے کے لیے سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی نہ صرف دل کی صحت بہتر بناتی ہے بلکہ بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر قابو میں رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تحقیق میں مختلف اقسام کی ورزشوں، جن میں ایروبک ورزش، طاقت بڑھانے والی ورزشیں (Resistance Training)، ہائی انٹینسٹی انٹرول ٹریننگ (HIIT) اور آئسومیٹرک ورزشیں شامل تھیں، کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ آئسومیٹرک ورزشوں نے سسٹولک اور ڈایاسٹولک دونوں بلڈ پریشر کی سطحوں میں نمایاں کمی پیدا کی، جبکہ ایروبک ورزشیں بھی بلند فشارِ خون کے شکار افراد کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوئیں۔
آئسومیٹرک ورزشوں میں پٹھوں کو حرکت دیے بغیر مخصوص پوزیشن میں رکھا جاتا ہے، جیسے وال سِٹ (Wall Sit) یا پلینک (Plank)۔ ماہرین کے مطابق ایسی ورزشیں خون کی نالیوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور دورانِ خون کو منظم کرنے میں مدد دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر کم ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایروبک ورزشوں میں تیز قدموں سے چلنا، دوڑنا، سائیکل چلانا اور تیراکی شامل ہیں۔ یہ سرگرمیاں دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر بناتی ہیں اور طویل مدت میں قلبی امراض کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ ورزش کو صحت مند غذا، نمک کے معتدل استعمال، مناسب نیند اور تناؤ میں کمی کے ساتھ اپنانا چاہیے تاکہ بلڈ پریشر پر زیادہ مثبت اثرات مرتب ہوں۔ انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض کسی نئی ورزش کا آغاز کرنے سے قبل اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔
تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ ہر قسم کی جسمانی سرگرمی صحت کے لیے فائدہ مند ہے، تاہم آئسومیٹرک اور ایروبک ورزشیں بلڈ پریشر کو مؤثر انداز میں کم کرنے کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہو سکتی ہیں۔
