میٹا پلیٹ فارمز اب ایک نئے AI پینڈنٹ کی آزمائش کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ کمپنی اپنی اسمارٹ گلاسز لائن اپ کو بھی کام کی جگہوں تک پھیلانا چاہتی ہے۔ دی انفارمیشن کی رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ میٹا کے ویئرایبل ہارڈویئر بزنس کو مضبوط کرنے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ ہے۔ رائٹرز نے بھی اس رپورٹ کو نقل کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق میٹا اگلے ایک سال کے اندر AI پینڈنٹ کی ٹیسٹنگ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ ڈیوائس ممکنہ طور پر روزمرہ گفتگو، میٹنگز اور کام سے متعلق معلومات کو سمجھنے، ریکارڈ کرنے یا خلاصہ بنانے جیسے فیچرز کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ ابھی کمپنی نے اس پروڈکٹ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، اس لیے کئی تفصیلات فی الحال اندرونی منصوبہ بندی تک محدود ہیں۔
اس منصوبے کا ایک اہم حصہ “Wearables for Work” نامی سروس بھی ہے، جس کے ذریعے میٹا ویئرایبل ڈیوائسز کو صرف صارفین کی تفریح یا ذاتی استعمال تک محدود نہیں رکھنا چاہتی، بلکہ انہیں دفتری اور کاروباری ماحول میں بھی لے جانا چاہتی ہے۔ سیدھی بات ہے، میٹا اب یہ دکھانا چاہتی ہے کہ اس کے AI گلاسز اور ممکنہ پینڈنٹ صرف فیشن یا تجرباتی گیجٹس نہیں، بلکہ کام کی رفتار بڑھانے والے ٹولز بھی بن سکتے ہیں۔
AI پینڈنٹ کا تعلق میٹا کی حالیہ خریداری Limitless سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ Limitless ایک AI ویئرایبل اسٹارٹ اپ تھا جو ایسی پینڈنٹ نما ڈیوائس بناتا تھا جو حقیقی دنیا کی گفتگو کو ریکارڈ اور ٹرانسکرائب کر سکتی تھی۔ رائٹرز کے مطابق میٹا نے دسمبر 2025 میں Limitless کو خریدا تھا، جس سے کمپنی کے AI ہارڈویئر عزائم مزید واضح ہو گئے تھے۔
یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب میٹا کی ہارڈویئر ڈویژن Reality Labs مسلسل بھاری نقصان برداشت کر رہی ہے۔ میٹا کے اپنے مالی نتائج کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں Reality Labs کی آمدنی 402 ملین ڈالر رہی، مگر اسی عرصے میں اس کا آپریٹنگ نقصان 4.028 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ یعنی کمائی کے مقابلے میں خرچ اب بھی بہت زیادہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کمپنی اب شاید زیادہ عملی، ہلکی اور روزمرہ استعمال والی AI ڈیوائسز پر زور دے رہی ہے۔ وی آر ہیڈسیٹ عام صارفین کے لیے اب تک اتنے ضروری ثابت نہیں ہوئے جتنی میٹا کو امید تھی۔ اس کے برعکس، اسمارٹ گلاسز یا پینڈنٹ جیسی ڈیوائسز زیادہ آسانی سے روزمرہ زندگی اور دفتر کے معمولات میں جگہ بنا سکتی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میٹا 2026 کی دوسری ششماہی میں ایک کروڑ ویئرایبل ڈیوائسز فروخت کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لیے کمپنی نئے ماڈلز، زیادہ ممالک میں دستیابی اور Ray-Ban و Oakley جیسے برانڈز کے ساتھ شراکت داری پر انحصار کر سکتی ہے۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ اگر کوئی پینڈنٹ یا گلاسز مسلسل گفتگو سننے، نوٹس بنانے یا میٹنگز کا خلاصہ تیار کرنے لگیں تو پرائیویسی کا سوال فوراً کھڑا ہو گا۔ دفاتر میں یہ معاملہ اور حساس بن جاتا ہے، کیونکہ ہر ملازم شاید یہ نہیں چاہے گا کہ اس کی بات چیت کسی AI ڈیوائس کے ذریعے محفوظ یا تجزیہ کی جائے۔
میٹا کے لیے اصل امتحان یہی ہو گا: کیا وہ AI ویئرایبلز کو مفید اور قابل اعتماد بنا سکتی ہے، یا یہ بھی Reality Labs کی مہنگی مگر محدود مقبولیت والی کوششوں میں شامل ہو جائے گا؟ فی الحال کمپنی کا رخ صاف نظر آتا ہے۔ میٹا اب میٹاورس کے بڑے وعدوں سے آگے بڑھ کر ایسے AI آلات بنانا چاہتی ہے جو لوگ واقعی پہنیں، دفتر لے جائیں، اور شاید روزانہ استعمال بھی کریں۔
