پاکستان میں حفاظتی ٹیکوں کی کوریج بڑھانے کی کوششوں کے باوجود ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ متعدد بچے اور بالغ افراد طبی مراکز سے رجوع کرنے کے باوجود ضروری ویکسینز سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ماہرین اس صورتحال کو "مسڈ اپرچیونٹیز فار ویکسینیشن” (Missed Opportunities for Vaccination) قرار دیتے ہیں، جہاں مریض کسی اور طبی مسئلے کے لیے ڈاکٹر سے ملتے ہیں لیکن ان کی ویکسینیشن کی صورتحال کا جائزہ نہیں لیا جاتا۔
صحت عامہ کے ماہرین کے مطابق ایسے مواقع ضائع ہونے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں ویکسینیشن ریکارڈ کی عدم دستیابی، وقت کی کمی، طبی عملے کی محدود تربیت، اور بعض اوقات ویکسین کے بارے میں غلط فہمیاں شامل ہیں۔ نتیجتاً ایسے افراد جو حفاظتی ٹیکوں کے اہل ہوتے ہیں، بروقت ویکسین حاصل نہیں کر پاتے۔
پاکستان میں بچوں کی معمول کی ویکسینیشن کے علاوہ خسرہ، پولیو اور دیگر قابلِ انسداد بیماریوں کے خلاف حفاظتی پروگرامز جاری ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر طبی معائنے کے دوران ویکسینیشن کی حیثیت کا جائزہ لینے کی روایت ابھی تک مکمل طور پر ادارہ جاتی شکل اختیار نہیں کر سکی۔ اس کے باعث بہت سے بچے اور نوجوان ضروری خوراکوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں، کلینکس اور بنیادی مراکز صحت میں ویکسینیشن اسکریننگ کو معمول کا حصہ بنایا جائے تو حفاظتی ٹیکوں کی شرح میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز، یاد دہانی کے نظام اور طبی عملے کی مسلسل تربیت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت اور دیگر صحت عامہ کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر مریض سے رابطے کو ویکسینیشن کی جانچ اور ضروری ٹیکے لگانے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اس حکمتِ عملی سے نہ صرف ویکسینیشن کے خلا کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ قابلِ انسداد بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ویکسینیشن کی شرح بہتر بنانے کے لیے حکومت، صحت کے اداروں، ڈاکٹروں اور والدین کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی اہل فرد حفاظتی ٹیکوں کے فوائد سے محروم نہ رہے اور صحت عامہ کے اہداف مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔
