ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر بال معمول سے زیادہ جھڑ رہے ہیں تو اس کی وجہ صرف جینیاتی عوامل یا طبی مسائل ہی نہیں بلکہ روزمرہ کی بعض عادات بھی ہو سکتی ہیں جو بالوں کی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ ہیئر اسٹائلنگ، ہیئر ڈرائر اور اسٹریٹنر جیسے گرم آلات کا بار بار استعمال، سخت کیمیکلز والی مصنوعات، ناقص غذا اور ذہنی دباؤ بالوں کے کمزور ہونے اور جھڑنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان عوامل کے نتیجے میں بالوں کی جڑیں متاثر ہوتی ہیں اور بال پتلے یا کمزور ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پروٹین، آئرن، زنک اور وٹامنز کی کمی بھی بالوں کی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ متوازن غذا نہ ہونے کی صورت میں جسم ضروری غذائی اجزا کو اہم اعضا کی طرف منتقل کرتا ہے، جس کے باعث بالوں کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔
طبی ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ بہت سخت پونی ٹیل، چوٹیاں یا ایسے ہیئر اسٹائل جو بالوں کو مسلسل کھینچتے رہیں، "ٹریکشن ایلوپیشیا” نامی مسئلے کا سبب بن سکتے ہیں، جس میں بال بتدریج گرنے لگتے ہیں اور بعض اوقات مستقل نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مناسب نیند، متوازن خوراک، ذہنی دباؤ میں کمی اور بالوں کی نرم دیکھ بھال ان کے قدرتی حسن اور مضبوطی کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر بالوں کا جھڑنا اچانک بڑھ جائے یا گنج پن کے نمایاں آثار ظاہر ہوں تو جلد کے ماہر (Dermatologist) سے رجوع کرنا چاہیے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوں کا جھڑنا بعض اوقات جسم میں کسی بنیادی طبی مسئلے، ہارمونل تبدیلی، تھائیرائیڈ کی خرابی یا غذائی کمی کی علامت بھی ہو سکتا ہے، اس لیے مسلسل یا غیر معمولی بال گرنے کی صورت میں طبی معائنہ ضروری ہے۔
