ورزش کب کی جائے—صبح یا رات؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو فٹنس کے شوقین افراد اور صحت کے ماہرین کے درمیان طویل عرصے سے زیرِ بحث ہے۔ نئی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ورزش کا بہترین وقت ہر فرد کے جسمانی نظام، روزمرہ معمولات اور صحت کے اہداف پر منحصر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق صبح کے وقت ورزش کرنے سے دن بھر توانائی کی سطح بہتر رہ سکتی ہے اور ورزش کو روزمرہ معمول کا مستقل حصہ بنانا آسان ہو جاتا ہے۔ بعض مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ صبح ورزش کرنے والے افراد میں وزن کم کرنے اور جسمانی سرگرمی برقرار رکھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
دوسری جانب شام یا رات کے وقت ورزش کرنے سے جسمانی کارکردگی میں بہتری آ سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دن کے اختتام تک جسم کا درجہ حرارت، پٹھوں کی لچک اور طاقت عموماً زیادہ ہوتی ہے، جس کے باعث بعض افراد بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں اور زیادہ مؤثر انداز میں ورزش کر سکتے ہیں۔
تحقیق سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ورزش کا وقت مردوں اور خواتین میں مختلف اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ بعض مطالعات کے مطابق صبح کی ورزش چربی گھٹانے میں مددگار ہو سکتی ہے، جبکہ شام کی ورزش عضلاتی کارکردگی اور برداشت کو بہتر بنانے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ورزش کے وقت سے زیادہ اہم اس کی باقاعدگی ہے۔ اگر کوئی شخص صبح ورزش کے لیے زیادہ متحرک محسوس کرتا ہے تو اسے اسی وقت ورزش کرنی چاہیے، جبکہ جو افراد شام کو بہتر توانائی محسوس کرتے ہیں وہ اس وقت ورزش سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بہترین وقت وہی ہے جس پر مستقل مزاجی کے ساتھ عمل کیا جا سکے۔ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا اور مناسب نیند مل کر مجموعی صحت، دل کی کارکردگی، وزن کے کنٹرول اور ذہنی تندرستی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
