خواتین کی زندگی میں 40 سے 65 سال کی عمر کے درمیان ایک ایسا مرحلہ آتا ہے جو اکثر خاموشی سے شروع ہوتا ہے، مگر اس کے جسمانی اور ذہنی اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پیری مینوپاز (Perimenopause) اور مینوپاز (Menopause) خواتین کی صحت سے جڑے اہم مراحل ہیں، جن کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی خواتین غیر ضروری پریشانی کا شکار ہو جاتی ہیں۔
پیری مینوپاز دراصل مینوپاز سے پہلے کا دور ہوتا ہے، جس میں جسم میں ہارمونز، خصوصاً ایسٹروجن کی سطح میں اتار چڑھاؤ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ مرحلہ کئی سال تک جاری رہ سکتا ہے اور اس دوران ماہواری بے قاعدہ ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس عرصے میں خواتین کو گرم لہر (Hot Flashes)، رات کو زیادہ پسینہ آنا، نیند کے مسائل، تھکن، موڈ میں تبدیلی، چڑچڑاپن، یادداشت میں کمی، وزن بڑھنا اور جوڑوں یا پٹھوں میں درد جیسی علامات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بعض خواتین میں دل کی دھڑکن تیز ہونے، بے چینی اور ذہنی دباؤ کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔
مینوپاز اس وقت قرار دیا جاتا ہے جب کسی خاتون کو مسلسل 12 ماہ تک ماہواری نہ آئے۔ اس مرحلے کے بعد ہڈیوں کی کمزوری، دل کی بیماریوں اور دیگر طویل مدتی صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس کے باعث باقاعدہ طبی معائنہ اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند، ذہنی دباؤ میں کمی اور طبی مشورے کے ذریعے ان علامات کو مؤثر انداز میں قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیری مینوپاز اور مینوپاز کوئی بیماری نہیں بلکہ زندگی کا ایک فطری مرحلہ ہے، جسے سمجھنے اور قبول کرنے سے خواتین اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کو بہتر بنا سکتی ہیں۔
طبی ماہرین نے خواتین اور ان کے اہلِ خانہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس موضوع پر کھل کر بات کریں تاکہ اس مرحلے سے گزرنے والی خواتین کو بہتر تعاون اور رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
