اقوام متحدہ: پاکستان نے لبنان میں جاری حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور فوجی کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو یہ بحران خطے کے امن و استحکام کے لیے مزید سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ لبنان کی صورتحال تیزی سے انسانی بحران میں بدل رہی ہے۔ ان کے مطابق مسلسل حملے، شہری آبادی کا متاثر ہونا اور علاقائی کشیدگی اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ سلامتی کونسل فوری اور مؤثر کردار ادا کرے۔
پاکستان نے اپنے مؤقف میں لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کی حمایت کا اعادہ کیا۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ تمام فریقین کشیدگی کم کریں، بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔ پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عمل درآمد کو بھی لبنان میں پائیدار امن کے لیے ضروری قرار دیا۔
یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب لبنان میں اسرائیلی حملوں اور حزب اللہ کی جوابی کارروائیوں کے باعث صورتحال پھر بگڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافات میں حملوں کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس بڑھا ہے، جبکہ سرحدی علاقوں میں فائرنگ اور میزائل حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
انسانی نقصان بھی کم نہیں۔ عالمی رپورٹس کے مطابق لبنان میں جاری تنازع کے دوران ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ دس لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ جنوبی لبنان کے دیہات، بیروت کے مضافاتی علاقے اور سرحدی بستیاں مسلسل دباؤ میں ہیں۔ عام شہری، ہمیشہ کی طرح، اس جنگ کا سب سے بڑا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
دوسری جانب سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ امریکی ثالثی کے تحت محدود کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق حزب اللہ مکمل جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کر سکتی ہے بشرطیکہ اسرائیل بھی حملے بند کرے۔ لبنانی حکام کا مؤقف ہے کہ جزوی جنگ بندی کافی نہیں، بلکہ مکمل اور فوری جنگ بندی ہی صورتحال کو قابو میں لا سکتی ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ لبنان کے معاملے کو فوری ترجیح دے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
پاکستانی مندوب کا پیغام واضح تھا: حملے بند کیے جائیں، شہریوں کو تحفظ دیا جائے، قرارداد 1701 پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور سفارت کاری کو ایک حقیقی موقع دیا جائے۔
