لندن — برطانیہ کے مسابقت کے نگران ادارے (اینٹی ٹرسٹ واچ ڈاگ) نے گوگل پر نئی سخت شرائط عائد کر دی ہیں، جس کے تحت اب پبلشرز اور اخباری اداروں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے مواد کو امریکی ٹیک کمپنی کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) فیچرز کے لیے استعمال ہونے سے روک سکیں۔
برطانیہ کی ‘کمپٹیشن اینڈ مارکیٹس اتھارٹی’ (CMA) نے یہ سخت قواعد گوگل کو ملک کے نئے ڈیجیٹل مارکیٹ قوانین کے تحت "اسٹریٹجک مارکیٹ اسٹیٹس” (لوگوں پر اثرانداز ہونے والی بڑی کمپنی) قرار دینے کے بعد لاگو کیے ہیں۔ یہ ریگولیٹری کارروائی برطانیہ میں سرچ انجن مارکیٹ پر گوگل کے مکمل غلبے کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے، جہاں وہ سے زائد سرچز کو کنٹرول کرتا ہے۔
سی ایم اے نے یہ اقدام نیوز ویب سائٹس اور دیگر پبلشرز کی بڑھتی ہوئی تشویش کے بعد اٹھایا ہے، جن کی ویب سائٹس پر آنے والے ٹریفک (کلک تھرو ریٹ) میں حالیہ عرصے میں شدید کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کمی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ صارفین گوگل کے اے آئی (AI) فیچرز کی مدد سے تیار کردہ خلاصہ دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں اور اصل ویب سائٹ کا رخ نہیں کرتے۔ ریگولیٹری ادارے کا کہنا ہے کہ ان نئی شرائط کا مقصد پبلشرز کو اپنے مواد پر زیادہ کنٹرول اور مضبوط پوزیشن فراہم کرنا ہے تاکہ ان کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کو یقینی بنایا جا سکے۔
نئے قواعد کے تحت، سی ایم اے نے گوگل کے لیے یہ لازمی قرار دیا ہے کہ وہ اے آئی کی مدد سے تیار کردہ سرچ نتائج میں اخباری اداروں اور پبلشرز کے مواد کے ساتھ واضح لنکس (Hyperlinks) شامل کرے تاکہ مواد کے اصل خالق کی درست شناخت ہو سکے۔
ریگولیٹری دباؤ کے جواب میں، گوگل نے کہا ہے کہ وہ ویب سائٹ مالکان کے لیے نئے ٹولز اور کنٹرولز متعارف کروا رہا ہے تاکہ وہ جنریٹو اے آئی سرچ کے اس نئے دور کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔ کمپنی نے اپنے ایک بلاگ پوسٹ میں تصدیق کی ہے کہ وہ ایک نئے کنٹرول فیچر کی ٹیسٹنگ کر رہی ہے جس کے ذریعے پبلشرز یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ ان کا مواد اے آئی سرچ میں دکھایا جائے یا نہیں۔ جو ویب سائٹس اس سسٹم سے علیحدگی (Opt-out) اختیار کریں گی، ان کا مواد گوگل کے ‘AI Overviews’ اور ‘AI Mode’ میں استعمال نہیں ہوگا، تاہم گوگل نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے سے ویب سائٹس کے روایتی سرچ نتائج (گوگل کی عام سرچ) پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔
اس کے علاوہ، گوگل پبلشرز کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اپنے اے آئی جوابات میں لنکس کی تعداد بھی بڑھا رہا ہے اور پبلشرز کو ٹریفک کے حوالے سے تفصیلی ڈیٹا فراہم کر رہا ہے۔ سی ایم اے کی چیف ایگزیکٹو سارہ کارڈل کا کہنا ہے کہ یہ نئی پابندیاں گوگل کے موجودہ اور مستقبل کے اے آئی اقدامات پر کڑی نظر رکھنے کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ برطانیہ کا یہ اقدام گوگل کے خلاف بڑھتے ہوئے عالمی ریگولیٹری دباؤ کا حصہ ہے، کیونکہ کمپنی کو اس وقت امریکہ اور یورپی یونین میں بھی سخت قانونی اور اینٹی ٹرسٹ کارروائیوں کا سامنا ہے۔
