اسلام آباد — وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خزانہ و وفاقی وزیر محمد اورنگزیب کی صدارت میں منعقدہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے اجلاس میں ملک کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے تین خصوصی ایکسپورٹ فنانس سبسڈی اسکیموں کی منظوری دیدی گئی ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق، اس خصوصی پیکیج میں ایکسپورٹ فنانس اسکیم، لانگ ٹرم ایکسپورٹ گروتھ فنانسنگ فیسلٹی، اور اضافی برآمدات پر کارکردگی کی بنیاد پر ریبیٹ (پاداش) دینے کی اسکیم شامل ہے۔ ای سی سی نے اس پیکیج کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کے لیے بھی خصوصی مراعات دینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ تمام برآمدی اسکیموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ چھ ماہ بعد طلب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ای سی سی کے اجلاس میں برآمدی شعبے کے علاوہ توانائی اور عوامی مالیات سے متعلق بھی متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ کمیٹی نے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے عالمی ثالثی عدالتوں میں زیرِ التوا کیسز کی پیروی کے لیے 4 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی۔ اس کے علاوہ، بند ہونے والے سرکاری بجلی گھروں (GENCOs) کے ملازمین اور پنشنرز کو متعلقہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (DISCOs) میں منتقل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران رحمان-8 ST-3 کنویں میں ‘پب ریزروائر’ کو باقاعدہ طور پر ٹائٹ گیس ریزروائر قرار دینے، مالیاتی سال 26-2025 کے لیے ای او بی آئی (EOBI) کے بجٹ تخمینوں، اور آر ایل این جی (RLNG) پر چلنے والے پاور پلانٹس کے لیے مقامی گیس ٹیرف کے تعین کی بھی منظوری دی گئی۔
