کابل:
افغانستان کے مختلف علاقوں میں لوگ اب درخت لگانے اور باغبانی کی طرف دوبارہ رجوع کر رہے ہیں تاکہ اپنی آمدن بہتر بنا سکیں اور زمین کی بگڑتی ہوئی حالت کو بہتر کیا جا سکے۔ چنار اور پستے کے درخت اس تبدیلی کی اہم علامت بن رہے ہیں۔
دیہی علاقوں میں کسان اب قلیل مدتی فصلوں کے بجائے طویل مدتی باغات اور جنگلاتی درختوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ چنار کے درخت جو تیزی سے بڑھتے ہیں اور تعمیراتی لکڑی کے لیے استعمال ہوتے ہیں، بڑی تعداد میں لگائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح پستے کے باغات بھی مقبول ہو رہے ہیں کیونکہ یہ خشک موسم میں بہتر پیداوار دیتے ہیں اور ان کی معاشی قیمت بھی زیادہ ہے۔
ماہرین زراعت کے مطابق یہ رجحان افغان عوام میں ماحولیاتی تبدیلی، جنگلات کی کمی اور پائیدار زمین کے استعمال کے بارے میں بڑھتی ہوئی آگاہی کی علامت ہے۔ برسوں کے تنازعات، ایندھن کی کمی اور غیر قانونی کٹائی نے کئی علاقوں میں جنگلات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اس صورتحال کے جواب میں مقامی تنظیمیں اور کسان گروپس درخت لگانے کی مہم چلا رہے ہیں تاکہ لوگوں کو معاشی اور ماحولیاتی فائدہ حاصل ہو سکے۔ خاص طور پر پستے کی کاشت کو ایک طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو دیہی معیشت کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
تاہم مسائل اب بھی موجود ہیں جن میں پانی کی کمی، جدید زرعی آلات کی عدم دستیابی اور تربیت کا فقدان شامل ہیں۔ ان مشکلات کے باوجود درخت لگانے کا رجحان بڑھ رہا ہے جو دیہی معیشت میں ایک مثبت تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مناسب پالیسی اور سرمایہ کاری کی جائے تو افغانستان کا زرعی اور جنگلاتی شعبہ معیشت کی بحالی اور ماحول کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
