ایبٹ آباد نے منگل کے روز نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے فائنل میں حریف ٹیم کو یکطرفہ مقابلے کے بعد شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کر لی۔ ایبٹ آباد کی فتح محض ایک جیت نہیں بلکہ ٹورنامنٹ میں ان کی مکمل بالادستی کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ فائنل کے دباؤ کے باوجود ٹیم نے جس نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا، وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
ٹورنامنٹ کے ابتدائی مراحل میں ناقدین نے ایبٹ آباد کو فیورٹ قرار نہیں دیا تھا، لیکن ٹیم نے حکمت عملی میں تبدیلی اور باؤلرز کی شاندار کارکردگی سے تمام پیش گوئیاں غلط ثابت کر دیں۔ فائنل کے آخری لمحات تک ایبٹ آباد کا پلڑا بھاری رہا اور مخالف ٹیم کبھی بھی میچ میں واپسی کرتی دکھائی نہیں دی۔
ایبٹ آباد کے باؤلرز نے میچ کے آغاز سے ہی حریف بلے بازوں پر دباؤ برقرار رکھا۔ پچ کی کنڈیشنز کا درست استعمال کرتے ہوئے باؤلرز نے نہ صرف رنز کی رفتار کو روکے رکھا بلکہ وقفے وقفے سے وکٹیں بھی حاصل کیں۔ دوسری جانب فیلڈنگ میں بھی غیر معمولی چستی نظر آئی، جس نے آدھے مواقعوں کو بھی وکٹوں میں تبدیل کر دیا۔
ہدف کے تعاقب میں ایبٹ آباد کی بلے بازی میچور رہی۔ اوپنرز نے جلد بازی دکھانے کے بجائے وکٹ پر قیام کو ترجیح دی اور سنگلز اور ڈبلز کے ذریعے اسکور بورڈ کو متحرک رکھا۔ خراب گیندوں کو باؤنڈری کی راہ دکھانے کے علاوہ ٹیم نے غیر ضروری رسک لینے سے گریز کیا، جس سے ان کی منصوبہ بندی واضح تھی۔
میچ کے بعد ٹرافی وصول کرتے ہوئے کپتان نے کہا، "ہمیں اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ تھا۔ فائنل کا دباؤ الگ ہوتا ہے لیکن ہم نے وہی کھیل پیش کیا جو ہم ٹورنامنٹ بھر میں کھیلتے آئے ہیں۔”
یہ جیت ایبٹ آباد کے ڈومیسٹک کرکٹ میں احیاء کی علامت ہے۔ یہ کسی ایک کھلاڑی کی انفرادی کارکردگی کا نتیجہ نہیں بلکہ پوری ٹیم کا متفقہ اور مربوط کھیل تھا۔ اس کامیابی کے بعد ڈومیسٹک سرکٹ کی دیگر ٹیموں کو اب ایبٹ آباد کی اس جارحانہ اور منظم حکمت عملی کا سامنا کرنے کے لیے نئی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔
