پیر کی صبح منڈاناؤ کے ساحل کے قریب آنے والے شدید زلزلے نے عمارتیں منہدم کر دیں، سونامی کی لہریں اٹھائیں اور ہزاروں افراد کو گھر بار چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔
پیر کے روز فلپائن کے جنوبی ساحل کے قریب 7.8 شدت کا انتہائی طاقتور زلزلہ آیا جس نے پورے منڈاناؤ خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس تباہ کن آفت میں کم از کم 32 افراد جاں بحق اور 200 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ زلزلے کے فوراً بعد قریبی ساحلوں پر ایک میٹر اونچی سونامی کی لہریں آئیں جن سے ساحلی آبادیوں میں مزید نقصان ہوا۔ یہ زلزلہ اس وقت آیا جب ملک بھر کے سکولوں میں نئے تعلیمی سال کا پہلا دن تھا اور پرچم کشائی کی تقریبات جاری تھیں۔
امریکی ارضیاتی سروے نے تصدیق کی کہ یہ آف شور زلزلہ سرانگانی صوبے میں جنرل سانتوس سٹی کے قریب — منڈاناؤ جزیرے کے انتہائی جنوبی سرے پر — آیا۔ کئی صوبوں میں عمارتیں زور سے لرزیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں داواؤ آکسیڈنٹل صوبے کے ایک سکول میں درجنوں خوفزدہ بچے زمین پر بیٹھے دکھائی دیے جبکہ ان کے پیروں تلے زمین ہل رہی تھی۔
"یہ تباہ کن ہے — پل میں دراڑیں آ گئی ہیں اور ایک بڑی صلیب والا مزار بھی زمین بوس ہو گیا۔”
عمارتیں منہدم، بنیادی ڈھانچہ تباہ
تقریباً سات لاکھ بیس ہزار آبادی والے جنرل سانتوس سٹی میں کئی عمارتیں مکمل طور پر گر گئیں یا شدید نقصان کا شکار ہوئیں۔ موقع سے آنے والی تصاویر میں ٹوٹے ہوئے سٹورز، کنکریٹ کی بکھری تہیں اور ایک منہدم فاسٹ فوڈ ریسٹوران دکھائی دیا۔ داواؤ ڈیل سور میں ایک سکول کی چھت بھی گر گئی، تاہم وہاں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ ایک جنوبی صوبے میں مسجد کو بھی نقصان پہنچا اور سرانگانی کی پہاڑیوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے بھی کئی افراد جاں بحق ہوئے۔
علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بڑا نقصان پہنچا۔ ماسیم قصبے میں ایک پل میں دراڑیں پڑ گئیں اور ایک بڑا مزار زمین پر آ گیا۔ آفات کے ذمہ دار اداروں نے فوری طور پر ساحلی دیہات خالی کرانا شروع کر دیے اور تمام رہائشیوں کو بلا تاخیر اونچے علاقوں کی طرف جانے کی ہدایت جاری کی گئی۔
ساحلوں پر سونامی کی لہریں
زلزلے کے نتیجے میں ایک میٹر یعنی تقریباً تین فٹ اونچی سونامی کی لہریں علاقائی ساحلوں سے ٹکرائیں۔ انڈونیشیا اور پلاؤ میں بھی چھوٹی لہریں ریکارڈ کی گئیں۔ بحرالکاہل سونامی وارننگ سینٹر نے تصدیق کی کہ زلزلے کے تقریباً پانچ گھنٹے بعد سونامی کا خطرہ کافی حد تک ٹل گیا، تاہم حکام نے کمزور ساحلی پٹیوں پر احتیاط جاری رکھنے کی تاکید کی۔ انڈونیشیا کے شمالی شہر ماناڈو میں بھی شہریوں نے زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے مگر وہاں سے کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
صدر کا فوری انخلاء کا حکم
فلپائنی صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے زلزلے کے فوراً بعد تمام متاثرہ ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر اونچے مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا۔ دفاع شہری کے دفتر نے بتایا کہ کم از کم 32 افراد ہلاک ہو چکے ہیں — زیادہ تر گری ہوئی عمارتوں اور لینڈ سلائیڈنگ میں — اور ہزاروں دیہاتی بے گھر ہو گئے ہیں۔
صرف جنرل سانتوس سٹی میں سات افراد لقمہ اجل بنے۔ سرانگانی، ساؤتھ کوٹاباتو اور داواؤ آکسیڈنٹل کے جنوبی صوبوں میں ملبہ گرنے، مسجد کو پہنچنے والے نقصان اور لینڈ سلائیڈنگ سے مزید اموات ہوئیں۔ تمام متاثرہ صوبوں میں ریسکیو ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
"زلزلہ عین اس وقت آیا جب بچے سکول کے پہلے دن کے لیے قطار میں کھڑے تھے — اس وقت نے اس تباہی کو اور بھی دردناک بنا دیا۔”
فلپائن — زلزلوں کی زد میں رہنے والا ملک
فلپائن بحرالکاہل کی "رنگ آف فائر” پر واقع ہے جو دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ خیز علاقوں میں سے ایک ہے۔ جنوبی منڈاناؤ کا خطہ گزشتہ چند دہائیوں میں کئی بڑے زلزلوں کا شکار ہو چکا ہے۔ حکام نے ہمیشہ ساحلی اور پہاڑی علاقوں کے رہائشیوں کو کسی بھی شدید جھٹکے کے بعد فوری انخلاء کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔
پیر کی سہ پہر تک امدادی کارروائیاں جاری تھیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے کیونکہ ریسکیو ٹیمیں دور دراز علاقوں تک ابھی پہنچ رہی ہیں۔ بین الاقوامی امدادی ادارے بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
