لندن — رڈلے اسکاٹ نے اپنی نئی فلم ’ٹریژر آئی لینڈ‘ کے لیے مرکزی کردار تلاش کر لیا ہے۔ اداکار ہیگ جیک مین رابرٹ لوئیس سٹیونسن کے مشہور ناول پر مبنی اس فلم میں بحری قزاق ’لانگ جان سلور‘ کا کردار ادا کریں گے۔ یہ اعلان ہدایت کار رڈلے اسکاٹ کے لیے ایک نئے اور دلچسپ تجربے کا پیش خیمہ ہے۔
فلم کی شوٹنگ کا آغاز اگلے سال کے اوائل میں متوقع ہے۔ رڈلے اسکاٹ اس 1883 کے کلاسک ادبی شاہکار کو ایک حقیقت پسندانہ اور سنجیدہ انداز میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ماضی میں بننے والی فلموں نے اکثر بحری قزاقوں کی زندگی کو ایک خیالی اور مہم جوئی تک محدود رکھا، لیکن اس بار کہانی کا محور نوجوان جِم ہاکنز اور سلور کے درمیان نفسیاتی کشمکش پر ہوگا۔
ہیگ جیک مین کے لیے یہ کردار ان کے حالیہ کیریئر سے ایک بڑا انحراف ہے۔ وولورین کے روایتی ایکشن کردار سے نکل کر، 56 سالہ اداکار اب ایک ایسے مکار قزاق کا روپ دھاریں گے جس کی شخصیت میں تضاد اور بے یقینی پائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، جیک مین اس پیچیدہ کردار کی باریکیوں کو سمجھنے کے لیے سخت تیاری کر رہے ہیں۔
اس فلم کی اسکرپٹ اسٹیون نائٹ نے لکھی ہے، جو ’پیکی بلائنڈرز‘ جیسے کامیاب پروجیکٹس کے لیے جانے جاتے ہیں۔ نائٹ نے کہانی کو نئے زاویوں سے پرکھا ہے، جس میں سلور کے کردار کی اخلاقی دھندلاہٹ کو نمایاں کیا گیا ہے — وہ شخص جو جِم ہاکنز کے لیے ایک ہی وقت میں استاد بھی ہے اور ایک خوفناک ولن بھی۔
یہ پروجیکٹ تقریباً ایک دہائی سے تعطل کا شکار تھا، جس کے دوران کئی ہدایت کاروں اور اداکاروں کے نام اس سے جڑتے رہے۔ رڈلے اسکاٹ کی شمولیت نے آخرکار اسے عملی شکل دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے اسٹوڈیوز اب کلاسک ادب کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
فلم میں جِم ہاکنز کے کردار کے لیے کاسٹنگ کا عمل جاری ہے۔ پروڈکشن ٹیم ایسے نئے چہرے کی تلاش میں ہے جو ہیگ جیک مین جیسے تجربہ کار اداکار کے سامنے اپنی اداکاری کا لوہا منوا سکے۔
رڈلے اسکاٹ کے لیے یہ فلم ایک بار پھر تاریخی موضوعات کی طرف واپسی ہے، لیکن ہیگ جیک مین کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایک ایسے مشہور ادبی ولن کو سکرین پر زندہ کرنا جس کی پہچان ہی دھوکہ دہی ہو، کسی بھی اداکار کے لیے آسان نہیں ہوتا۔
