عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ عالمی ادارہ موسمیات نے تصدیق کی ہے کہ ’ایل نینو‘ موسمیاتی نظام کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جس کے ساتھ ہی تین سال سے جاری ٹھنڈے موسم کا دور ختم ہو گیا ہے۔ یہ تبدیلی دنیا بھر میں شدید گرمی اور بارشوں کے غیر متوقع پیٹرن کا باعث بنے گی۔
وسطی اور مشرقی بحر الکاہل کے پانیوں کا درجہ حرارت بڑھنا محض ایک موسمی تبدیلی نہیں، بلکہ عالمی ماحولیاتی توازن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق جب بھی ایل نینو کا اثر شروع ہوتا ہے، زمین کا درجہ حرارت تیزی سے اوپر جاتا ہے۔ 2016 میں جب آخری بار یہ نظام اپنی شدید ترین شکل میں تھا، وہ سال تاریخ کا گرم ترین سال ثابت ہوا۔
عالمی ادارہ موسمیات کے سیکریٹری جنرل پیٹیری ٹالاس نے کہا کہ "ایل نینو کا آغاز درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ توڑنے اور دنیا کے کئی حصوں میں شدید گرمی کی لہروں کا باعث بنے گا، جس کے اثرات سمندروں میں بھی نمایاں ہوں گے۔”
زرعی شعبے اور توانائی کے نظام کے لیے یہ صورتحال براہِ راست خطرے کی گھنٹی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایل نینو کے دوران جنوب مشرقی ایشیا اور آسٹریلیا میں قحط کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، جبکہ جنوبی امریکہ اور امریکہ کے جنوبی حصوں میں شدید بارشیں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں؛ یہ خوراک کی قیمتوں، جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات اور پانی کی فراہمی کو متاثر کرنے والے عوامل ہیں۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ نظام ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب زمین پہلے ہی انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے دباؤ میں ہے۔ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج نے ماحول کو پہلے ہی غیر مستحکم کر رکھا ہے، اس لیے ایل نینو کا معمولی اثر بھی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ موسمیاتی کیفیت رواں سال کے باقی مہینوں میں برقرار رہے گی، جس کا عروج 2023 کے آخر یا 2024 کے اوائل میں متوقع ہے۔ اگرچہ اس کی شدت کے بارے میں حتمی پیشگوئی مشکل ہے، تاہم ابتدائی ڈیٹا اسے "کم از کم درمیانے درجے” کا واقعہ قرار دے رہا ہے۔
مختلف ممالک کی حکومتیں اب ہنگامی بنیادوں پر اپنے امدادی منصوبوں پر نظرثانی کر رہی ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی جانچ کی جا رہی ہے، جبکہ خشک سالی کے خطرے والے علاقوں میں پانی کی بچت کے ہنگامی پروٹوکول فعال کیے جا رہے ہیں۔
ایل نینو کا ظہور اس بات کا اعادہ ہے کہ کرہ ارض کا موسمیاتی نظام ساکت نہیں ہے۔ یہ ایک پیچیدہ اور مربوط مشین ہے، اور اگلے اٹھارہ ماہ تک بحر الکاہل کا یہ نظام دنیا بھر کے موسموں کو اپنی لپیٹ میں رکھے گا۔
