کوئٹہ — وزیراعظم شہباز شریف بدھ کے روز ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے، جہاں انہوں نے بلوچستان کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے سیکیورٹی پالیسی میں فوری تبدیلی کا اعلان کیا۔
گورنر ہاؤس میں منعقدہ ہائی لیول اجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، صوبائی قیادت اور انٹیلی جنس اداروں کے اعلیٰ حکام شریک تھے۔ ملاقات کا محور حالیہ ہفتوں میں سیکیورٹی تنصیبات اور عوامی انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملے تھے، جس کے بعد صوبے میں خوف کی فضا قائم ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ ریاست اب مزید انتہا پسندی اور بدامنی کا بوجھ برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کو ہدایت کی کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کیا جائے اور ان سلیپر سیلز کو ختم کیا جائے جو حالیہ پرتشدد واقعات کے پیچھے ہیں۔
اجلاس میں شریک ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ "ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کا بھرپور اور بلا امتیاز جواب دیا جائے گا۔”
بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال گزشتہ ایک ماہ کے دوران تیزی سے خراب ہوئی ہے۔ ریلوے لائنوں، پولیس اسٹیشنوں اور شاہراہوں پر قافلوں کو نشانہ بنانے کے واقعات نے اہم مواصلاتی راستوں کو مفلوج کر دیا ہے، جس سے ایک نئی شورش کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ عسکری قیادت نے وزیراعظم کو ان گروہوں کی جانب سے درپیش تکنیکی مشکلات پر بریفنگ دی، جس میں صوبائی پولیس اور وفاقی انٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطوں کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔
حکومت جہاں خطے میں استحکام کے لیے کوشاں ہے، وہیں مقامی سطح پر تحفظات برقرار ہیں۔ قبائلی عمائدین اور سول سوسائٹی کا ایک بڑا طبقہ اس بات پر متفق ہے کہ صرف سیکیورٹی اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے، جب تک ان معاشی محرومیوں کا ازالہ نہیں کیا جاتا جو مقامی بے چینی کی بنیادی وجہ ہیں۔
آرمی چیف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فوج صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، تاہم اس حکمت عملی کی کامیابی کا دارومدار انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو فوری طور پر جدید بنانے پر ہے۔
اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم نے حالیہ حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا — ایک ایسا اقدام جو زمینی حقائق کی سنگینی کو کم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ آیا یہ حکومتی احکامات صوبے میں دیرپا امن لا سکیں گے یا یہ محض ایک وقتی کریک ڈاؤن ثابت ہوگا، یہ سوال اس وقت بلوچستان کے عوام کے ذہنوں میں سب سے اہم ہے۔
