کراچی کے باسیوں کو آج بھی شدید گرمی اور حبس کا سامنا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہوا میں نمی کا تناسب بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ سے گرمی کی شدت اصل درجہ حرارت سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
گرمی کی لہر کے باوجود موسم کا ایک کمزور سسٹم شہر کے قریب سے گزر رہا ہے۔ ماہرینِ موسمیات نے آج شام یا رات کے اوقات میں شہر کے کچھ حصوں میں بوندا باندی یا ہلکی بارش کی پیشگوئی کی ہے۔ تاہم، یہ بارش گرمی کے ستائے شہریوں کو کوئی بڑی راحت دینے کے لیے ناکافی دکھائی دیتی ہے۔
ہیٹ انڈیکس — جو درجہ حرارت اور حبس کے ملاپ سے بنتا ہے — کے مطابق ‘محسوس ہونے والی گرمی’ 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جا سکتی ہے۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صبح 11 بجے سے سہ پہر 4 بجے تک غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں اور زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال یقینی بنائیں۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہونے کے باعث گرمی کا احساس بڑھ جاتا ہے اور انسانی جسم کو ٹھنڈا ہونے میں مشکل پیش آتی ہے۔ متوقع بارش کا سلسلہ محدود رہے گا، جس سے مجموعی درجہ حرارت میں نمایاں کمی کا امکان کم ہے۔”
شہر میں بجلی کی فراہمی کرنے والے ادارے کو بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ گرمی کے عروج کے اوقات میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔ اگرچہ بجلی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ نظام مستحکم ہے، مگر کولنگ اپلائنسز کے بے تحاشا استعمال سے ڈیمانڈ میں اضافے نے سسٹم پر دباؤ ڈال رکھا ہے۔
شہر کا نکاسی آب کا نظام بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ تھوڑی سی بارش بھی، اگر ساتھ تیز ہوائیں چلیں، تو نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور بجلی کے تاروں کے گرنے کا سبب بنتی ہے۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی ہنگامی ایڈوائزری جاری نہیں کی گئی، البتہ بلدیاتی عملے کو حساس علاقوں میں الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حبس کا یہ سلسلہ اختتامِ ہفتہ تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ کراچی کے شہری اب بھی موسم میں کسی بڑی تبدیلی کے منتظر ہیں، مگر فی الحال ٹھہری ہوئی ہوا اور تپتی دھوپ ہی شہر کا مقدر بنی ہوئی ہے۔
