کراچی: وزیراعلیٰ سندھ Murad Ali Shah نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ صوبے کی معاشی ترقی، عوامی فلاح اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ سندھ اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ حکومت مشکل معاشی حالات کے باوجود ترقیاتی عمل کو جاری رکھنے اور مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے صوبائی بجٹ کا حجم 3.56 ٹریلین روپے رکھا گیا ہے، جبکہ عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز بھی پیش کی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کا وژن صرف موجودہ ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ صوبے کے لیے طویل المدتی معاشی بنیادیں مضبوط کرنا ہے۔ اسی مقصد کے تحت کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جو اسلامی فنانس، انفراسٹرکچر فنانس اور موسمیاتی سرمایہ کاری کا اہم مرکز بنے گا۔
انہوں نے کیٹی بندر کو عالمی معیار کے میری ٹائم، لاجسٹکس، صنعتی اور توانائی کے مرکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ صوبے میں سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور اقتصادی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کرے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بجٹ میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، بلدیاتی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں اور صوبے کی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کیا جا سکے۔
