کراچی: Pakistan Medical Association (پی ایم اے) نے سندھ حکومت کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحتِ عامہ کی بنیادی ضروریات کو بجٹ میں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
پی ایم اے کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صوبے میں صحت کے شعبے کو درپیش سنگین مسائل، اسپتالوں میں سہولیات کی کمی، طبی عملے کی قلت اور بنیادی صحت مراکز کی حالتِ زار کے باوجود بجٹ میں خاطر خواہ وسائل مختص نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق صحت عامہ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات اور مناسب فنڈنگ ناگزیر ہے۔
تنظیم نے مؤقف اختیار کیا کہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے بغیر عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ پی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجٹ پر نظرثانی کرتے ہوئے صحت کے شعبے کے لیے مزید فنڈز مختص کیے جائیں تاکہ شہری اور دیہی علاقوں میں علاج معالجے کی سہولیات بہتر بنائی جا سکیں۔
پی ایم اے کے مطابق ایک مضبوط صحت کا نظام کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، تاہم موجودہ بجٹ میں اس شعبے کو وہ ترجیح نہیں دی گئی جس کی اشد ضرورت تھی۔
