فرانس کے نصف سے زائد علاقوں میں شدید گرمی کے پیشِ نظر ’ریڈ الرٹ‘ نافذ کر دیا گیا ہے۔ حکام نے ملک بھر میں جاری موسیقی کے تہوار ’فیت دی لا میوزک‘ کے دوران عوامی مقامات پر شراب نوشی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی احکامات کا مقصد عوامی صحت اور سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر رہا ہے، جس کے باعث ہیٹ اسٹروک اور طبی ہنگامی صورتحال کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ حکومتی حکام کا ماننا ہے کہ گرمی کی شدت میں شراب کا استعمال شہریوں کی قوتِ فیصلہ اور جسمانی توازن کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔
پیرس پریفیچکچر کے ترجمان نے کہا کہ "ہم کوئی خطرہ مول نہیں لے رہے۔ سڑکوں پر شدید تپش کے دوران شراب نوشی عوامی تحفظ کے لیے خطرہ ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ شہری ہوش میں رہیں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور سایہ دار مقامات پر پناہ لیں۔”
یہ ہیٹ ویو مغربی یورپ میں ہوا کے دباؤ کے ایک ایسے پیٹرن کا نتیجہ ہے جس نے گرم ہوا کو علاقے میں مقید کر رکھا ہے۔ میٹیو-فرانس کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس بار گرمی کی شدت غیر معمولی ہے، خاص طور پر رات کے وقت درجہ حرارت میں نمایاں کمی نہ آنا انسانی جسم کے لیے شدید تھکن کا باعث بن رہا ہے۔
موسیقی کے تہوار کے منتظمین کے لیے یہ پابندی ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔ کئی آؤٹ ڈور اسٹیجز کو ان ڈور مقامات یا سایہ دار پارکوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ کچھ پروگرام منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ فنکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی پرفارمنس کا دورانیہ مختصر رکھیں اور اسٹیج لائٹنگ کا استعمال کم کریں، کیونکہ یہ مصنوعی روشنی بھی گرمی میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔
ملک بھر کے ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ ہے۔ حکومت نے ’پلان کانی کول‘ کے تحت بزرگوں اور کمزور افراد کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، جبکہ بلدیاتی عمارتوں میں ’کول رومز‘ قائم کیے گئے ہیں تاکہ شہری گرمی سے بچ سکیں۔
مقامی انتظامیہ نے دکانداروں کو بھی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ کئی شہروں میں میئرز نے دھمکی دی ہے کہ اگر کسی دکان سے پابندی کے باوجود شراب فروخت ہوئی تو بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ ساتھ ہی، دکانداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی دکانوں کے باہر پانی کے کولر اور مفت فراہمی کا بندوبست کریں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گرمی کی یہ لہر منگل تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ حکومت نے شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے اور بلاضرورت باہر نکلنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔ فی الحال، فرانس میں موسیقی اور تہواروں سے زیادہ شہریوں کی جان کا تحفظ ترجیح ہے۔
