جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے دو روزہ براہِ راست مذاکرات کا پہلا دور جمعرات کو ختم ہو گیا، جس میں مستقبل کے لیے ایک ابتدائی ڈھانچہ تو طے پایا، لیکن جوہری افزودگی اور علاقائی سکیورٹی جیسے بنیادی تنازعات بدستور حل طلب ہیں۔
مذاکرات کے بعد سفارت کاروں نے محتاط انداز میں امید ظاہر کی۔ دونوں وفود نے ماحول کو "تعمیری” قرار دیا، تاہم حقیقت یہ ہے کہ فریقین کے درمیان خلیج اب بھی بہت گہری ہے۔ امریکی وفد کی قیادت کرنے والے خصوصی ایلچی رابرٹ مالی نے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر زور دیا، جبکہ تہرانی وفد کا مطالبہ تھا کہ کسی بھی پیش رفت سے قبل پابندیوں میں فوری نرمی کی جائے۔
صورتحال انتہائی نازک ہے۔ ایران اس وقت ہتھیاروں کے معیار کے قریب یورینیم کی افزودگی کر رہا ہے، جس نے خطے میں کشیدگی کو نقطہ عروج پر پہنچا دیا ہے۔ واشنگٹن کی حکمت عملی 2015 کے جوہری معاہدے کی حدود میں واپسی پر مرکوز ہے، لیکن نطنز کی تنصیبات میں جدید سینٹری فیوجز کی تنصیب نے اس ہدف کو مزید دور کر دیا ہے۔
مذاکرات سے واقف ایک یورپی سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہمارے پاس آگے بڑھنے کا ایک راستہ ضرور ہے، لیکن یہ راستہ ایسی رکاوٹوں سے بھرا ہے جنہیں ہٹانے کے لیے کوئی بھی فریق تیار نظر نہیں آتا۔”
یہ تقسیم صرف تکنیکی نہیں ہے۔ دونوں دارالحکومتوں میں داخلی سیاسی دباؤ نے سفارت کاری کی گنجائش کو محدود کر رکھا ہے۔ واشنگٹن میں قانون ساز ایسے کسی بھی معاہدے کے خلاف ہیں جو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی پراکسیوں کی حمایت کو شامل نہ کرے۔ دوسری جانب تہران میں سخت گیر پارلیمنٹ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ کسی بھی ایسے سمجھوتے کو مسترد کر دے گی جس میں جوہری پیش رفت کو جلد بازی میں واپس لیا جائے۔
عالمی منڈیوں پر بھی ان مذاکرات کے اثرات نمایاں ہیں۔ مذاکرات کی خبر کے بعد تیل کی قیمتوں میں معمولی گراوٹ دیکھی گئی، لیکن کسی ٹھوس پیش رفت کے فقدان نے قیمتوں کو دوبارہ اوپر کی طرف دھکیل دیا۔ تاجر جانتے ہیں کہ جب تک کوئی حقیقی معاہدہ نہیں ہوتا، پابندیوں کا موجودہ نظام اور اس سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی۔
یہ مذاکرات کسی فوری حل کے لیے نہیں تھے، بلکہ ایک ‘حقیقت پسندی کا امتحان’ تھے۔ دو ہفتوں بعد دوبارہ ملاقات پر اتفاق کر کے دونوں فریقین نے کچھ وقت تو خرید لیا ہے، لیکن ابھی تک وہ سیاسی جرات نہیں دکھائی گئی جو ان نشستوں کو ایک پائیدار معاہدے میں بدل سکے۔
فی الحال سفارت کاری کی کھڑکی تھوڑی سی کھلی ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ راستہ کسی معاہدے کی طرف جاتا ہے یا کشیدگی کے ایک نئے دور کی طرف؛ جس کا انحصار مکمل طور پر اس بات پر ہے کہ پہلا قدم کون اٹھاتا ہے اور اپنے داخلی سیاسی دباؤ کو برداشت کرنے کی ہمت کس میں کتنی ہے۔
