خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور پنجاب کے بالائی علاقوں میں آج صبح 5.4 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے بعد شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
نیشنل سیسمک مانیٹرنگ سینٹر کے مطابق زلزلے کا مرکز افغانستان کا ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ تھا اور اس کی گہرائی 180 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ جھٹکے صبح 8 بج کر 42 منٹ پر محسوس کیے گئے، جس کی شدت کے باعث لوگ دفاتر اور گھروں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے۔
زلزلے کے فوری بعد اسلام آباد اور پشاور میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی، تاہم ریسکیو حکام کے مطابق تاحال کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایف-6 کے ایک رہائشی نے بتایا کہ جھٹکے تقریباً 10 سیکنڈ تک جاری رہے، جس سے عمارتوں میں موجود سامان ہل گیا۔
ماہرینِ ارضیات کے مطابق ہندوکش کا خطہ ٹیکٹونک پلیٹوں کے لحاظ سے انتہائی حساس ہے۔ تاہم، اس زلزلے کی گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی تباہ کاریوں کا اثر کم رہا۔ اگر یہی شدت سطح زمین کے قریب ہوتی تو انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
متاثرہ اضلاع کے تعلیمی اداروں میں احتیاطی تدابیر کے طور پر کلاسیں کچھ دیر کے لیے معطل کر دی گئیں اور طلباء کو کھلے مقامات پر منتقل کیا گیا۔ خیبر پختونخوا کے دور دراز دیہی علاقوں میں پولیس اور مقامی انتظامیہ نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے متحرک ہے، جہاں کچے مکانات کو زلزلے سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آفٹر شاکس (زلزلے کے بعد کے جھٹکوں) کا امکان موجود ہے، اس لیے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
زلزلے کے جھٹکوں کے بعد معمولاتِ زندگی آہستہ آہستہ بحال ہو رہے ہیں، لیکن یہ واقعہ اس خطے میں موجود مستقل زلزلے کے خطرے کی یاد دہانی کراتا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات اب بھی ایک بڑی ضرورت ہیں۔
