پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی سے باضابطہ ملاقات کی درخواست کی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومتی حلقے آزاد جموں و کشمیر میں بگڑتی ہوئی سیاسی اور سماجی صورتحال کو سنبھالنے کے لیے کوشاں ہیں۔
اس ملاقات کا مقصد آزاد کشمیر میں جاری احتجاج اور حکومتی پالیسیوں کے درمیان خلیج کو کم کرنا ہے۔ خطے میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بجلی کے بھاری بلوں اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے، جس کے نتیجے میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔
محمود خان اچکزئی، جو اپوزیشن اتحاد کے اہم رہنما ہیں، نے آزاد کشمیر میں حکومتی اقدامات پر سخت تنقید کی ہے۔ اپوزیشن کی صفوں میں ان کا اثر و رسوخ انہیں اس صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایک کلیدی کردار بناتا ہے۔
کشمیر کمیٹی کے چیئرمین اس ملاقات میں خطے کے حالات کو معمول پر لانے کے لیے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دینا چاہتے ہیں۔ تاہم، اصل چیلنج اچکزئی کا ردعمل ہے۔ وہ ماضی میں حکومتی رابطوں کو "نمائشی” قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ آزاد کشمیر حکومت کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے، اور وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ اپوزیشن کی حمایت کو غیر فعال کیا جائے۔ اچکزئی جیسے رہنما کو مذاکرات کی میز پر لانا حکومت کے لیے وہ سیاسی کور فراہم کر سکتا ہے جس کی اسے قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ یا مشکل فیصلے کرنے کے لیے ضرورت ہے۔
آزاد کشمیر میں جاری بے چینی کے دوران جانی نقصان بھی ہوا اور املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ وفاقی حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے اربوں روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا، لیکن مقامی انتظامیہ پر عوامی اعتماد اب بھی بحال نہیں ہو سکا۔
اگر یہ ملاقات ممکن ہوئی تو یہ آزاد کشمیر کی حکمرانی کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی اور اپوزیشن کے کسی سینئر رہنما کے درمیان براہ راست رابطے کی ایک نایاب مثال ہوگی۔ فی الحال، کمیٹی کو اچکزئی کے دفتر کی جانب سے حتمی جواب کا انتظار ہے۔
