فنانس بل 2026 قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف (IMF) کی سخت شرائط کے مطابق بھاری ملکی قرضوں کی ادائیگی, دفاعی ضروریات اور عوامی ریلیف کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ بل جہاں کچھ شعبوں کے لیے مراعات لایا ہے، وہاں چھوٹے تاجروں اور مہنگائی سے پسے ہوئے عام آدمی کے لیے نئے چیلنجز کا باعث بھی بنا ہے۔
-
تنخواہ دار طبقہ: انکم ٹیکس کے سلیبس میں کچھ ریلیف دیا گیا ہے۔ زیادہ آمدنی والے افراد پر عائد 9 فیصد سرچارج ختم کر دیا گیا ہے، اور 35 فیصد کا زیادہ سے زیادہ ٹیکس اب صرف 70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدنی پر لاگو ہوگا۔
-
سرکاری ملازمین اور بی آئی ایس پی: وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کا بجٹ بڑھا کر 838 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔
-
ریل اسٹیٹ اور کارپوریٹ سیکٹر: پراپرٹی پر عائد سیکشن 7E (فرضی رینٹل انکم ٹیکس) ختم کر دیا گیا ہے، جائیداد کی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس میں کمی کی گئی ہے، اور آئی ٹی (IT) و برآمدی شعبے (Exporters) کے لیے مراعات دی گئی ہیں۔
-
اسمارٹ فونز پر ٹیکس میں کمی: اسمارٹ فونز کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی کی گئی ہے، اور بھاری پی ٹی اے (PTA) ٹیکس اب اقساط میں ادا کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔ تاہم، اس کا فائدہ صرف امپورٹڈ فونز کو ہوگا، مقامی طور پر اسمبل ہونے والے فونز کو نہیں۔
-
ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا دباؤ: کاروباروں کے لیے الیکٹرانک انوائسنگ، ٹیکس اسٹیمپ اور ویڈیو اینالیٹکس کا نظام لازمی قرار دیا گیا ہے، جو ان چھوٹے تاجروں کے لیے انتہائی مشکل ہوگا جن کے پاس ڈیجیٹل انفراسٹرکچر نہیں ہے۔
-
ڈیجیٹل کریٹرز پر ٹیکس: سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل مواد بنانے والے نوجوانوں (Content Creators) کی آمدنی پر بینکوں کے ذریعے 5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔
-
پیکجڈ اشیاء پر سیلز ٹیکس: روزمرہ استعمال کی پیکجڈ اشیاء جیسے گھی، دودھ، کاسمیٹکس اور پلاسٹک وغیرہ پر سیلز ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے، جس کا بوجھ دکانداروں کے بجائے براہِ راست صارفین پر منتقل ہوگا۔
-
پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس: پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں میں اضافے سے ایندھن اور مال برداری (لاجسٹکس) کی لاگت بڑھے گی، جس کے نتیجے میں سفری اخراجات اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا Kul.
-
غیر رسمی معیشت کا نقصان: انکم ٹیکس میں دی گئی رعایت کا فائدہ صرف رجسٹرڈ تنخواہ دار طبقے کو ہوگا، جبکہ غیر رسمی (انفارمل) معیشت یا دیہاڑی پر کام کرنے والے کروڑوں افراد اس ریلیف سے محروم رہیں گے۔
مجموعی طور پر، فنانس بل 2026 معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے بجائے صرف 15.264 ٹریلین (152 کھرب روپے) کا بڑا ٹیکس ہدف پورا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ بجٹ کا سب سے بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں چلا جائے گا، جس کی وجہ سے تعلیم، صحت اور صنعتی ترقی کے لیے فنڈز کی شدید کمی رہے گی۔ معاشی ماہرین کے مطابق، حکومت نے اشرافیہ اور غیر ٹیکس شدہ شعبوں پر بڑے ٹیکس لگانے کے بجائے عام صارفین اور چھوٹے کاروباری اداروں پر بوجھ ڈالا ہے، جس سے معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں عارضی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
